Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15th March
پٹنہ گزشتہ دنوں راشٹریہ سہارا اردو اخبار میں شاۓ خبر کو پڑھ کر مصلیان مسجد نے اخبار کے دفتر میں بات کرتے ہوئے کمہرار واقعی جناتی مسجد معاملے میں چھپی خبر کوبے بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ خورشید حسنین وقف سٹیٹ 184جو بہاراسٹیٹ شیعہ وقف بورڈ میں درج ہے اس معاملے میں ڈاکٹر فرمان علی نوشاد علی سمیت کئ لوگوں نے کہا کہ اس وقف اسٹیٹ میں ایک قدیم مسجد جناتی مسجد کے نام سے ہے 2019 میں کچھ سماجی لوگوں نے بورڈ سے بات چیت کر کے سماجی کارکن شکیل احمد ہاشمی کی قیادت میں یہاں باضابطہ طور سے پابندی کے ساتھ نماز شروع کرایا جبرن خدکویہاں کامجابربتانےوالاشخص محمد پھول اس کادونوداماداپنے پورے پریوار کے ساتھ سماجی تناؤ پیدا کرنے میں لگ گیا مسجد کے حدود میں بڑے پیمانے پر شرک و بدعت اور پوجا پاٹ کروا کر ہم وطن بھائیوں کو ورغلاۓ رکھا جب سے نماز شروع ہوئی ہے ہر دن امام صاحب کو ٹارچر کرتا ہے اور مسجد کے دروازے پر پھول مالا پان وغیرہ لٹکاتا ہے جس سے نمازیوں کو کافی کراہیت ہوتی ہے جبکہ اس وقف اسٹیٹ میں جو درگاہ ہے وہ مسجد سے پچاس میٹرسے زیادہ کی دوری پر ہے اس وجہ سے وہاں مسجد کا دروازہ صرف نماز کے وقت کھولا جاتا ہے تاکہ سماجی تناؤ اور مذہبی خرافات کو بڑھاوا دینے والوں کو موقع نہ ملے لوگوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں بہار اسٹیٹ شیعہ بورڈ کے سابق چیئرمین اس پاکھنڈی بابا محمد پھول کی پشت پناہی کر رہے ہیں جواس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے اس معاملے میں معروف سماجی کارکن جدیوکے متحرک لیڈر شکیل احمد ہاشمی نے کہا کہ مسجد کے تحفظ کو اور اس کی حرمت کو برقرار رکھناہم سب کی ذمہ داری ہے پہلے بھی یہاں امام صاحب کومحمدپھول کے ذریعے بولاۓ گۓ نامعلوم غنڈوں سے گالی گلوج اورطرح طرح کی اذیتیں دی جاتی رہی ہے ان معاملوں میں محمد پھول اور ان کے ساتھ 9لوگوں پربورڈکی طرف سے پہلے بھی کیس درج ہوا ہے اور عوامی سطح پر کورٹ میں معاملہ درج کرایا گیا ہے ۔

