Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 22nd March
دارا شکوہ پر خدا بخش لائبریری میں بڑے پیمانے پر پروگرام کئے گئے۔ دارا شکوہ کی چھپی کتابوں اور قلمی سرمایہ کی نمائش کی گئی، ودوانوں کے لیکچرز ہوئے، دارا شکوہ پر ایک فلم شو بھی ہوا، اور پھر ۲۲ مارچ کو نوجوانوں نے ’’دارا شکوہ اور اس کے سندیس‘‘ پر خوب جم کر تقریریں کیں۔
آج اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تقریری مقابلہ کا انعقاد کرایا گیا۔ جس میں تقریباً تیس پینتیس نواجوانوں نے حصہ لیا اور دارا شکوہ کے مختلف پہلووؤں پر روشنی ڈالی۔ اس مذاکرہ سے یہ فائدہ ہوا کہ نئی نسل دارا شکوہ کی شخصیت اور ان کے علمی کارنامے سے بخوبی جانکاری ہو ئی۔ مجموعی طور پر تمام طالب علموں نے اس بات پر زور دیا کہ دارا شکوہ نے انسانیت اور فرقہ وارانہ خیرسگالی کی جو شمع روشن کی تھی، اس شمع کو پھر سے روشن کیا جائے تو سماج اور معاشرہ خود سے سیدھے راستے پر چل پڑے گا۔ جج کے فرائض ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری ، ڈاکٹر مسعود حسن اور ڈاکٹر محمد ذاکر حسین ندوی نے انجام دئے ۔ججوں نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جلد ہی انعامات کی تقریب کا اعلان کیا جائے گا۔
جن بڑے ودوانوں نے دارا شکوہ پر خدا بخش تقریبات میں خاص یوگدان دیا ان میں پروفیسر مجتبی حسین کی تقریر کو خاص طور سے پسند کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ ایک دارا شکوہ ہر زمانے میں ہوتا ہے، اور دوسری طرف اس کی مخالف قوتیں بھی صف آرا رہتی ہیں۔ اب ہر زمانے کے لوگوں کا فرض ہے کہ اپنے اپنے عہد کے دارا کو پہنچانیں۔ انہوں نے کہا آج داراشکوہ تو نہیں مگر اس کی تصنیفات شانتی نکیتن سے خدا بخش تک پڑھنے والوں کو اور ان کی سوچ کو آگے بڑھاتی رہتی ہے۔
ڈاکٹر شائستہ بیدار ڈائریکٹر خدا بخش لائبریری نے کہا کہ دارا نے سب سے بڑا کام یہ کیا تھا کہ بنارس کے ودوانوں اور دہلی، آگرہ کے فارسی دانوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا تھا، جنہوں نے دنیا کے ایک سب سے بڑے افکار کے مجموعے اور ہندو فلاسفی پر دنیا سے ناپید ایک قیمتی خزانے کو دنیا کے سامنے پہلی بار پیش کر دیا۔ جس کا نام اپنشد ہے، اور یہ ہندستانی تہذیب کو سب سے بڑی پیشکش ہے جو میاں میر اور ملا شاہ کے مرید نے بھارتی افکار کو زندہ کرکے بخشی، دارا شکوہ نہ ہوتا تو آج اپنشد کا نام نہ ہوتا۔
دارا شکوہ نہایت ذہین، تعلیم یافتہ اور فراخ دل شہزادہ تصور کیا جاتا ہے۔انھوں نے ویدک ادب کا مطالعہ کیا اور اسلام اور ہندومت میں قربت کی بہت سی باتیں سامنے رکھیں۔ وہ مذہبی رواداری، سماجی آہنگی، اتحاد پسندی، باہمی محبت، تنوع میں جدت اور مخلوط معاشرت اور ثقافت کا قائل تھا۔ مغل شہزادہ ہونے کے ساتھ ایک نامور مصنف بھی تھا۔ جس کی تخلیقات میں تقریباً پچاس اپنشدوں کا فارسی ترجمہ بھی شامل ہے۔ وہ برصغیر میں مذہب کی بنیاد پر روا رکھی جانے والی منافرت اور تنگ نظری کو ختم کرنے کا خواہاں تھا۔ دارا شکوہ کی حیثیت کئی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ وہ مذہبی امور میں وسیع الخیال تھا اور فلسفہ وحدت الوجود کا معتقد تھا۔ دارا شکوہ کی انھیں خوبیوں سے نئی نسل کو آگاہ کرنے کی غرض سے سہ روزہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ شہزادہ دارا شکوہ کی یوم پیدائش پر داراشکوہ اور آج اس کی معنویت کے موضوع پر لکچرز کرائے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے کہا کہ لائبریری نے ہمیشہ اپنے بڑوں کو یاد کیا ہے اور انکی خدمات کو لکچرز اور نمائش کتب کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایا ہے۔اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے آج داراشکوہ پر مخطوطات اور کتابوں کی نمائش لگائی گئی۔ اس کے ساتھ ہی دارا شکوہ اور اس کی معنویت کے موضوع پر لکچرز کا انعقاد کیاگیا۔ ڈاکٹر شائستہ بیدار نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ آج ہم لوگ ایک ایسے انسان کو یاد کرنے جارہے ہیں جو Unity of Indiaکا، Interfaith Understandingکا، دلوں کو جوڑنے کا پرتیک ہے۔آج اگر اس جیسی سوچ کے لوگ، بڑی تعداد میں ہوں تو ہندستان کی فضا بدل جائے۔ محبت اور آشتی اور بڑھے۔میرا مقصد داراشکوہ کی شخصیت سے ہے۔ خدا بخش لائبریری اور داراشکوہ کا ایک گہرا تعلق ہے۔ دونوں نے، زمانے سے، دلوں کو قریب لانے کا کام کیا ہے۔ اور ”سروا دھر م سمان“Sarva Dharm Samman (سب دھرموں کا ایک سا آدر) کی Policy کو Promote کیا ہے کہ یہ ساری دنیا ایک ہی ایشور کی سنتان ہے،ایک ہی ایشور کے ہزار رنگ کا منظر نامہ ہے، بس سمجھ کا پھیر ہے۔ جو سمجھ گیا، اس نے پالیا۔ جس نے پالیا اس نے دنیا سے دوری اختیار کرلی۔ لیکن آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جس نے سمجھ لیا اور پالیا تو دنیا میں رہ کر ہی، دنیا کو، خوشگوار بنایا جائے، رہنے لائق بنایا جائے۔ دنیا سے فرار حاصل کرکے تو صرف اس ایک واحد شخص کی ذات کو راحت ملتی ہے۔ سماج کو کچھ دے کر جانا ہے۔ اگر اپنے کردار سے کسی ایک کی بھی شخصیت کی تعمیر کردی تو مانو جیون سفل ہوا۔ یہ میرا، آپ کا، سب کا کرتویہ ہے۔داراشکوہ جس کو مشہور صوفیوں اور دل والوں کا ساتھ ملا، شفقتیں ملیں، پہلے تو میاں میر، وہی میاں میر جنہوں نے امرتسر کےGolden Temple کا سنگ بنیاد رکھا اور پھر کشمیر کے ملا شاہ بدخشی کشمیری کے سایہ میں رہ کر تصوف کے نکات سیکھے۔ جب داراشکوہ کو ایسی شخصیات کا ساتھ ملا تو ظاہر ہے کہ اس کا خمیر تو ایسے ہی اٹھنا تھا۔اس کا فلسفہ تھا کہ دنیا میں بس ایک ہی ہے، دوئی exist ہی نہیں کرتی۔ ہر جگہ ایشور کا، خدا کا جلوہ ہے۔ پھر انہوں نے دارا کے اشعار بھی سنائے، جس میں تصوف کی تعلیمات کا لب لباب تھا:
من ترا جویاں و تو ہمراہ من عقل گشتہ رہبر گمراہ من
میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں اور تم میرے ساتھ ہو عقل مجھ سے گمراہوں کی رہنما بن گئی ہے
اے تو اندر ہر جمالے رونما وے تو اندر ہر لباسے آشنا
تو ہر جمال میں جلوہ آرا ہے تو ہر لباس میں جلوہ گر ہے
اے بہر جا حسن خوبت جلوہ گر اے فتادہ شور حسنت جا بجا
ہر جگہ تمہارے حسن کی خوبیاں موجود ہیں ہر جگہ تمہارے حسن کا شور برپا ہے
آنکہ ہر کس دید سوئے روئے تو چشم خود پوشید او از ماسوا
جس شخص نے بھی تمہارا روشن چہرہ دیکھا اس نے ماسوا سے اپنی آنکھیں پھیر لیں
ڈاکٹر رتیشور ناتھ تیواری نے کہا کہ دارا شکوہ کا یہ ماننا تھا کہ انسانیت سب سے بڑی چیز ہے۔تمام مذاہب کے مارگ الگ الگ ہیں مگر ان کی منزل ایک ہے۔دارا شکوہ نے ہندو مذہب اور دیگر مذاہب کا مطالعہ کیا اور ان کے پیغامات کوفارسی زبان میں پیش کیا۔دارا شکوہ کی ادبی خدمات قابل قدر ہیں۔وہ انسانیت پسند تھے ۔
ڈاکٹر زاہدی صاحب نے داراشکوہ کی حالات زندگی اور ان کی کتابوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ دارا شکوہ قادری فرقہ سے منسلک ہوئے اور ملّا شاہ بدخشی سے مستفید ہوئے۔
ڈاکٹر مجتبی حسین نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر داراشکوہ اگر ہندوستان کا بادشاہ ہوتا توبہتر ہوتا۔دارا شکوہ نے اپنشدھ کے تراجم کر کے اسے عام کیا۔ہمیں دارا شکوہ کو یاد کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا کہ دارا شکوہ کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔اس کی فارسی ادب میں بہت خدمات ہیں۔داراشکوہ نے فارسی زبان کا استعمال ایک پُل کے طور پر کیا ہے۔سکینتہ الاولیا اور سفینتہ الاولیا اس کی گراں قدر کتابیں ہیں۔ سفینتہ الاولیا کا خدا بخش لائبریری میں ایسا نسخہ موجود ہے جس پر دارا شکوہ کے دستخط ہیں۔سرّ اکبر کے ذریعہ دارا شکوہ نے ڈائلاگ کو آگے بڑھانے کا کام کیا۔داراشکوہ اکبر کا spritual successor تھا۔داراشکوہ کے خیلات کو سمجھنے کی آج کے حالات میں بہت اہمیت ہے۔
ڈاکٹر فضیل احمد قادری نے بھی اس موقع پر دارا شکوہ کے سلسلہ میں اپنے خیلات رکھے۔انہوں نے کہا کہ interfaith understanding کے نمونے تیرہوٰیں صدی عیسوی سے ملتے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر رتیشور تواری، ڈاکٹر زاہدی، پروفیسر مجتبی حسین، ڈاکٹر امتیاز احمد، ڈاکٹر فضیل احمد قادری، ڈاکٹر مدھومیتا، ڈاکٹر شتروگھن، اور دوسرے ودوانوں کی باتیں بہت دلچسپی سے سنی گئیں۔ سامعین اور طلبا نے بڑی تعداد میں سوالات کرکے جلسے کی spirit کو، ودوانوں کے جواب حاصل کرکے آگے بڑھایا۔
طلبا وطالبات جنہوں نے اس پروگرام میں حصہ لیا ان کے نام، کوشل کمار، کرن کماری، سونیا رانی، گلفشاں، منیش کمار، سنتو کمار، بھاسکر، رجنیش رنجن، برجیش کمار، محمد ریحان رضا، مہیش کمار، ابھیشک کمار، سندیپ کمار، اتل ساگر، امبکا کماری، سردل کمار، تنش کمار جھا، روشن کمار، شوانی سمن، جوہی شاہ، ریشم ناز، وسیم اکرم، پشپانجلی، آنند وکاش، رپیش، دیوانشو، ارشاد انصاری، ابھیشیک ہیں۔