میرے اوپر 40دہشگردی کے کیسز ہیں:عمران خان

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24th March

لاہور،24مارچ : لاہور ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانتوں پر سماعت کے دوران سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ 40 منٹ کھڑا جوڈیشل کمپلیکس کے باہر رہا، میری زندگی خطرے میں تھی پھر ہم واپس آ گئے، یہ غیر معمولی صورتحال ہے، میرے اوپر 40 دہشتگردی کے کیسز ہیں۔جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ بطور اعتراض کیسز سماعت کر رہا ہے۔عمران خان نے اسلام آباد میں درج 5 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے، جس پر رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا تھا کہ پی ٹی ا?ئی چیئرمین ان 5 مقدمات میں پہلے ہی حفاظتی ضمانتی لے چکے ہیں۔عمران خان کے خلاف تھانہ کھنہ اور رمنا کے دو, دو اور بارہ کوہ تھانے میں ایک مقدمہ ہے۔صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ آپ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اڑا دے گی؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اگر نہیں اڑائے گی تو سوال یہ ہے کہ انتخابات اکتوبر میں کیسے ہوں گے، ایسے تو یہ کبھی کہہ دیں گے کہ پیسے نہیں ہیں، جنگل کا قانون بنا ہوا ہے۔عمران خان نے وکلا سے درخواست کی کہ کمرہ عدالت میں تصویریں نہ بنائیں۔عمران خان کی اسلام آباد میں درج پانچ مقدمات میں حفاظتی ضمانت پر سماعت شروع ہوگئی، عمران خان کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔وکیل عمران خان بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ عمران خان کی درخواستوں پر اعتراض عائد کیا گیا ہیکہ درخواستیں دوبارہ دائر کی گئی ہیں، عمران خان انہی کیسز میں ضمانت لینے اسلام آباد گئے تھے، وہ 40 منٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر کھڑے رہے۔وکیل عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا، اسلام آباد میں عمران خان پر دو نئے مقدمے درج کر دیے گئے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ جو حالات ہیں جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد فی الحال نہیں جا سکتے۔وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں سیکیورٹی تھریٹس ہیں، عمران خان کے پاس کوئی سیکیورٹی نہیں ہے، اس موقع پر سماعت کے دوران عمران خان روسٹرم پر آ گئے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے سے لی گئی ضمانت میں توسیع مانگی ہے جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ میرے مطابق ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کا کنڈکٹ سامنے ہیں ان پر کیسز ہوسکتے جاتے جا رہے ہیں اور ہم سامنا کرتے جا رہے ہیں جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ آپ کو اسلام آباد کی ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم کل سے اس پر غور کر رہے ہیں لیکن عمران خان کی سیکیورٹی کا ایشو ہے، عمران خان آج بھی اپنی سیکیورٹی کے ساتھ عدالت آئے ہیں۔عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ مجھے اسلام آباد ٹول پلازہ سے عدالت پہنچنے کافی وقت لگا، اتنی پولیس اور ایف سی لگا دی کہ پتا نہیں کوئی مجرم آ رہا ہے ، پتھراؤ کیا جا رہا تھا شیل برسائے جا رہے تھے میری جان خطرے میں تھی۔