Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 30th March
اڈانی کی شیل کمپنیوں میں 20 ہزار کروڑ روپے کس کے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو پچھلے کئی دنوں سے لوگوں کی زبان پر ہیں۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی بھی کئی دنوں سے یہ سوال پوچھتے رہے ہیں۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے، کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیڑا نے بدھ کو ممبئی میں یہ ایک نیا انکشاف کیا ہے کہ اڈانی کی شیل کمپنی، جس میں20 ہزارکروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، میں ایک چینی شہری بھی شامل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کے عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ چینی شہری کون ہے۔حکومت اسے واضح نہیںکرنا چاہتی ہے۔ان کا سوال ہے کہ 303 ممبرانِ پارلیمنٹ کی بھاری اکثریت کے باوجود مرکزی حکومت مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تحقیقات سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟ پون کھیڑا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس اڈانی گھوٹالے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کی اپنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔
کانگریس کی جانب سے گزشتہ بدھ کو ملک بھر کے 35 شہروں میں پریس کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا ،جس کی ٹیگ لائن’’ ڈیموکریسی ڈس کوالیفائیڈ‘‘ تھی۔ اسی کے تحت پون کھیڑا ممبئی میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔کانگریس کا الزام ہے کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ مودی حکومت اڈانی گروپ کی کمپنیوں پر خصوصی احسان کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جب بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو اڈانی بھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ آسٹریلیا کے دورے پر مودی نے کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے ایس بی آئی سے اڈانی کو قرض دے کر مہربانی کی تھی۔ مودی نے سری لنکا کی حکومت پر اڈانی گروپ کو سری لنکا میں پاور سیکٹر کا ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ مودی نے بنگلہ دیش کی حکومت پر بھی دباؤ ڈالا کہ وہ اڈانی کو بجلی سپلائی کا ٹھیکہ دلائے۔ سرکاری ایجنسیوں کے دباؤ میں کئی اہم صنعتیں اڈانی کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ایل آئی سی کے سرمایہ کاروں نے بھی اڈانی کی کمپنی میں 33 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اڈانی گھوٹالے کی وجہ سے عام لوگوں کا یہ پیسہ خطرے میں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی نے پچھلے دنوں (27 مارچ) کو دہلی میں میڈیا سے ملاقات کے دوران ایک سوال کے جواب میں دعوے کے ساتھ یہ بات کہی تھی کہ اگر اڈانی کے پاس کانگریس کے وزرائے اعلیٰ کا پیسہ ہے تو انہیں بھی جیل میں ڈال دیں۔ مگر ابھی ہم مرکزی حکومت سے جواب چاہتے ہیں کہ اڈانی کی شیل کمپنیوں میں لگائے گئے 20 ہزار کروڑ روپے کس کے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل راہل گاندھی کے قریب بیٹھے تھے۔ میڈیا والوں نے راہل گاندھی سے پوچھا تھاکہ آپ کے پاس دو وزرائے اعلیٰ بیٹھے ہیں۔ اڈانی کا پیسہ بھی ان کی ریاستوں میں لگا ہے، کیا اڈانی کا کاروبار ان کی ریاستوں میں بند ہو جائے گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ آپ توجہ ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔ اڈانی کی شیل کمپنیوں میں لگائے گئے 20 ہزار کروڑ روپے کی تحقیقات کروائیں۔ ہمارے وزرائےاعلیٰ کے پاس پیسے ہیں تو جیل میں ڈال دیں۔
سیاسی مبصرین اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ یہ مانتے ہیں کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد اڈانی گروپ کے کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ’’بھارت جوڑو یاترا ‘‘کے دوران راہل گاندھی نے ملک کی کئی ریاستوں میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اڈانی گروپ پر سوالات اٹھائے تھے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ملک کے عوام کا پیسہ پرائیویٹ کمپنیوں پر لٹایاجا رہا ہے۔ ایل آئی سی کے کروڑوں روپے اڈانی گروپ میں لگائے گئے ہیں۔ اس کی تحقیقات کے لیے اپوزیشن مسلسل جے پی سی کی تشکیل کا مطالبہ کر رہی ہے۔مگر اس کی آواز مسلسل نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہو رہی ہے۔
ادھر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بھی مودی حکومت پر زور دار حملہ کرنے لگے ہیں۔ان کے مطابق جس دن مودی حکومت اقتدار سے باہر ہو جائے گی، بی جے پی والوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا، ملک بدعنوانی سے پاک ہو جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ ایک دن پہلے پی ایم مودی نے بی جے پی دفتر کی توسیع کے افتتاح کے موقع پر اپوزیشن پارٹیوں کا نام لیے بغیر ان پر نشانہ لگایا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ بی جے پی نے پچھلے 9 سالوں سے ملک میں بدعنوانی کے خلاف سخت جنگ لڑی ہے،لیکن بعض پارٹیوں کے رہنما ’’کرپٹ بچاؤ مہم‘‘ چلا رہے ہیں۔یعنی ان دنوں بر سر اقتدار سیاسی جماعت اور اپوزیشن کے درمیان ایک دوسرے پر الزام تراشی اور سیاسی داؤ پیچ کا دور شباب پر ہے۔ایسے میںملک کے بنیادی ایشوزپر کسی کی توجہ نہیں ہے۔عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری سے بہت پریشان ہے، لیکن لگتا ہے کہ اس سے کسی کو کوئی مطلب بھی نہیں ہے۔ کیا بھارت جیسے جمہوری ملک کے لئے یہ اچھی بات ہے ؟!