Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 03 MARCH
روم ،3اپریل:اٹلی کی حکومت نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سافٹ ویئر ‘چیٹ جی پی ٹی’ پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔حکومت کے پرائیویسی واچ ڈاگ نے جمعے کو کہا کہ یہ عارضی پابندی ڈیٹا کی خلاف ورزی کے تناظر میں کی گئی ہے کیوں کہ وہ یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن کے سخت قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔اطالوی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ‘جب تک چیٹ جی پی ٹی رازداری کا احترام نہیں کرتا۔’ وہ عارضی کارروائی کر رہی ہے۔دوسری جانب چیٹ جی پی ٹی بنانے والی امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے جمعے کی رات کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے حکومت کی درخواست پر چیٹ جی پی ٹی کو اٹلی کے صارفین کے لیے غیر فعال کردیا ہے۔کمپنی کا کہنا ہے اسے یقین ہے کہ اس کا طرزِ عمل یورپی رازداری قوانین کی تعمیل کرتا ہے۔ کمپنی کو امید ہے کہ جلد ہی چیٹ جی پی ٹی دوبارہ دستیاب ہوگا۔دنیا بھر میں انٹرنیٹ رسائی کی نگرانی کرنے والے گروپ نیٹ بلاکس کے ڈائریکٹر الپ ٹوکر کہتے ہیں کہ اگرچہ دنیا بھر میں کچھ اسکولز اور یونیورسٹیز نے طلبہ کی جانب سے سرقے کے خدشات پر چیٹ جی پی ٹی کو مقامی نیٹ ورک پر بلاک کیا ہے، لیکن اٹلی کا یہ اقدام اے آئی پلیٹ فارم پر قومی سطح کی پہلی پابندی ہے۔اس پابندی سے چیٹ جی پی ٹی کا ویب ورڑن متاثر ہوگا جو زیادہ تر ‘رائٹنگ اسسٹنٹ’ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ تاہم اس پابندی سے ان کمپنیوں کی سافٹ ویئر ایپلی کیشنز پر اثر پڑنے کا امکان نہیں جن کے پاس پہلے سے ہی اوپن اے آئی کے چیٹ بوٹ کو استعمال کرنے کا لائسنس موجود ہے جیسے مائیکروسافٹ کے سرچ انجن ‘بنگ’ کے پاس۔اطالوی واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی کو 20 دن کے اندر بتانا ہوگا کہ اس نے صارفین کے ڈیٹا کی رازداری یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے یا اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا جو لگ بھگ دو کروڑ 20 لاکھ ڈالر یا سالانہ آمدی کا چار فی صد تک ہوسکتا ہے۔پرائیویسی واچ ڈاگ نے بیان میں یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن کا حوالہ دیا اور چیٹ جی پی ٹی صارفین کی بات چیت اور صارفین کی ادائیگیوں سے متعلق معلومات پر مشتمل ڈیٹا کی حالیہ خلاف ورزی کی نشاندہی کی۔