Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 03 MARCH
اسلام آباد ،3اپریل :پاکستان اور چین کے درمیان اہم تجارتی شاہراہ خنجراب پاس کو 3 سال کے بعدآج کھول دیا گیا جسے کووڈ-19 کی وبا کے باعث بند کردیا گیا تھا۔اس شاہراہ کو عمران خان کے زمانے میں بند کیا گیا جس کی وجہ سے دنوں ملکوں کے درمیان تجارت میں کمی آگئی ہے۔ وزیراعظم نے شاہراہ کھلنے پر مسرت کا اظہار کیا ۔ اس سلسلے میں مقامی اہلکاروں کوہدایت دی گئی کہ وہ گاڑیوں میں لدے سامان کو ایک دوسرے کے ملک میں جانے کے لئے انتظامات مضبوط کرے۔ کسٹم محکمے کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ آمد رفت کے لئے 24گھنٹے کام کرے چونکہ تجارت معطل ہوتا تھا اس لئے گوادر بندرگاہ پر بھی کام ٹھپ ہوگیا ہے ۔ اب اس سال گوادر بندرگاہ کو دوبار چین کا سامان لیکر دوسرے ملکوں کے لئے روانہ ہوگیں۔ بارڈ پوائنٹ پر 130عملے تعینات کئے گئے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس خنجراب شاہراہ کو تجارت کو بڑھانے کے لئے استعمال کریں گے۔ انہوں نے تجارتی و سفری بحالی پر دونوں ممالک کے حکام اور ٹیم ممبرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین کی قیادت اور عوام کی پاکستان کے لیے محبت اور تعاون ناقابل فراموش ہے۔ایک معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان درہ خنجراب کے ذریعے تجارتی اور سفری سرگرمیاں یکم اپریل سے شروع ہو کر 30 نومبر تک جاری رہیں گی، جبکہ گلگت بلتستان کی وادی سوست سے چین کے صوبے سنکیانگ تک روزانہ بس سروس ہوگی۔واضح رہے کہ سرد موسم اور اونچائی پر آکسیجن کی کمی کے باعث درہ خنجراب عام طور پر ہر سال یکم اپریل سے 30 نومبر تک کھلتا ہے اور یکم دسمبر سے 31 مارچ تک بند رہتا ہے، تاہم پاکستان کی فوری ضرورت اور دیگر سامان کی ہموار کسٹم کلیئرنس کو یقینی بنانے کے لیے پورٹ کو اس سال کے اوائل میں دو بار عارضی طور پر کھولا گیا تھا۔