پاکستان میں مارشل لاء لگنے کے امکانات محدود :عمران خان

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 03 MARCH

لاہور ،3اپریل: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں مارشل لاء لگنے کا کوئی بھی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ فوج کے ر اج کے خلاف ہے تو وہ مسلط کرنے ملک کے مفاد کے لئے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی نہ کسی بہانے انہیں گرفتا رکرنے یا مارنے کی پلاننگ کررہی ہے۔ شہباز شریف کی حکومت نے ملک میں بحران پیدا کیا او رانہو ںنے دستور کی دھجیاں اڑائیاں ۔ دستور کے حساب پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں 90دن کے اندر الیکشن کرانا لازمی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت ا سکی کوئی پاسداری نہیں کی ۔ اگرملک میں الیکشن میں نہیں ہوگا تو یہ ایک سیاسی بحران پیدا کریگا ۔ پاکستان میں اسوقت ایک مافیا کام کررہا ہے اور وہ اپنے اغراض مقاصد کے لئے ملک کے عدلیہ کو بھی تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی حالت ابتر ہے لوگوں کو بلا پوچھے اٹھا یا جاتا ہے اور ان کے خلاف دہشت گردوں جیسے سلوک کیا جاتا ہے۔ ہم ملک کے اقتصادی صورتحال ابترہے۔ عمران خان نے کہا کہ پہلے میں سابق فوجی سربراہ کو اپنا قریبی سمجھتا تھا لیکن بعد میں یہ پتہ چلا کہ وہ میری حکومت ختم کرنے پیچھے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ جب وہ ایک ملک کا دورہ کررہے تھے تو وہاں کے سربراہ نے مجھے یہ کہا کہ کیا جنرل باجواہ اپ کے ساتھ ہیں او رجب میں نے انہیں کہا کہ ہاں تو ا س کو حیرانگی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار کو اس لئے پنجاب کا وزیراعلی بنا یا گیا کیونکہ وہ دیانتدار سیاست دان تھا ۔ ا س سے پہلے شہباز شریف نے پنجاب میں لوٹ مچائی تھی اس لئے ہماری خواہش تھی کہ ایک ایسا آدمی آئے جو دیانتدار ثابت ہو۔