Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 03 MARCH
پٹنہ، 3 اپریل:جے ڈی یو کے قومی صدر للن سنگھ ا?ج چنئی روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں حصہ لیں گے۔ پٹنہ ہوائی اڈے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جب ان سے وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ’’عوام دیکھ رہی ہے کہ بہار میں جنگل راج ہے یا کیا راج ہے‘‘۔ لیکن انہیں دہلی کے حالات کے بارے میں بتایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے انہیں کل کہا تھا کہ وہ راج بھون میں ا?کر ٹھہریں۔ یہاں سے مہم چلائیں، جو ا?پ کے ذہن میں ہو وہ کریں۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ بہار کے لوگ سمجھ چکے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی صرف چالیں چلتی ہے اور اس بار چاہے وہ کچھ بھی کر لے، لوک سبھا کے انتخابات میں بہار میں انہیں ایک بھی سیٹ نہیں ملے گی ، وہ صفر پر ا?و?ٹ ہو جائیں گے۔
للن سنگھ نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سال 2015 میں بہار میں رہ کر انتخابی مہم چلائی تھی اور اس کا نتیجہ کیا نکلا یہ سب جانتے ہیں۔ اس بار بھی وہ بار بار بہار ا? رہے ہیں۔ انہیں انتخابی مہم چلانے سے کہاں روکا گیا ہے، ہمیں ان کے راج بھون میں ہی ا?نے اور رہنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن یہاں کے لوگ سب کچھ جانتے ہیں۔ بہار میں اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی کا کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ ساتھ ہی غصے میں للن سنگھ نے کہا کہ وہ (امت شاہ) فسادیوں کو کیا جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ للن سنگھ کے اس بیان پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیونکہ للن سنگھ خود اس بیان میں عظیم اتحاد کو فسادی سمجھ رہے ہیں۔ دراصل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوارکے رو زنوادہ میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2024 میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو بہار میں 40 سیٹیں جیتنی چاہئیں۔ 2025 میں بھی انہوں نے عوام سے بی جے پی کو مکمل اکثریت دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد فسادیوں کو الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا۔ للن سنگھ نے اس پر اپنا ردعمل دیا۔ حالانکہ غصے میں للن سنگھ نے خود کو اور پوری اپوزیشن کو فسادی سمجھا۔