پیر کی رات رشڑا اسٹیشن پر بم اندازی قصور واروں کو بخشا نہیں جائے گا: گورنر

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 04 APRIL

ہگلی4/اپریل (محمد شبیب عالم) رشڑا میں آئے دن صورتحال بےقابو ہورہے ہیں۔ یہاں دو اپریل کو رام نومی کے جلوس کے دوران ہنگامہ ہواتھا اور اسی شام سے لگاتار کچھ نہ کچھ واردات پیش آرہے ہیں یہاں ۔ وہیں اس معاملے میں بی جے پی اور اسکے ریاستی صدر شکانتو مجمدار آگ میں گھی ڈالنے کا کام کررہے ہیں۔ اتوار کی شام ہوئے اس واردات کےبعد لگاتار کسی بھی صورت میں شکانتو مجمدار رشڑا میں داخل ہونے کی کوششیں کررہے ہیں اور لگاتار پولیس انکے منصوبے میں کامیاب ہونے نہیں دے رہی ہے ۔ جیسا کہ انہوں نے کل دن میں اس متاثرہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کئے ۔ مگر پولیس نے انہیں کوننگر میں ہی روک دی۔ لیکن اس دن شکانتو واپس جانے کے بجائے شیرامپور پہنچ گئے اور وہاں دھرنا منچ بناکر بیٹھ گئے ۔ ابھی یہ سب چل ہی رہا تھا کہ رشڑا اسٹیشن کے قریب چار نمبر گیٹ پر رات قریب دس سوا دس بجے بم باری ، آگ جنی ہوگئی اسکے نتیجے میں ہوڑہ بنڈیل اور بردوان روٹ یہاں سے گزرنے والی ٹرینیں متاثر ہوئیں ۔ رشڑا کی صورتحال دیکھکر ریلوے کے سی پی آر او کوشک مترا نے فیصلہ لیا کہ ریلوے گیٹ جب تک بند نہیں ہوتا ٹرینیں نہیں چلیں گی ۔ رات ایک بجے کےبعد صورتحال یہاں قابو میں آئی اور ریل آمدورفت بحال ہوئی ۔ بتایا جاتا ہےکہ رات میں یہاں پولیس کونشانہ بناتے ہوئے پتھر بازی بھی کی گئی ریلوے پھاٹک کےسامنے پولیس کی گاڑی میں توڑپھوڑ کےبعد نظر آتش کردیا گیا ۔ اتنا کچھ ہوتے ہوئے ابھی حالات قابو میں بھی نہیں ہوا تھاکہ صبح ہوتے ہی بی جے پی صدر شیرامپور برتلہ موڑ پر دھرنا پر بیٹھے پھر سے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کئے تب موقعے پر پولیس پہنچ کر دھرنا منچ کو ہٹائی ۔ لیکن شکانتومجمدار ہار نہیں مانےڈانکونی پہنچ گئے وہاں رستہ روکے دھرنے پربیٹھ گئے ۔

  ادھر گزشتہ تین دنوں سے رشڑا کی صورتحال دیکھتے ہوئے ریاستی گورنر سی بی آنند بوس رشڑا میں امن کی بحالی کےلئے رشڑا پہنچ گئے ۔ یہاں آکر وہ متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا ۔ عام لوگوں کے پاس گئے ان سے براہ راست ملاقات کرکے لوگوں کے مسائل سنے اور لوگوں کو یقین دہائی کروایا کہ صبر سے کام لیں ۔ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔ اس دوران لوگوں نے ان دے شکایت کی کہ تین دنوں سے یہاں جینا حرام ہواہے خوگ کے سائے میں جی رہے ہیں ۔ اس پر گورنر نے شرپسندوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سب کو جینے کا حق ہے اس لئے ” جیو اور جینے دو ” ساتھ ہی انہوں نے اور کہا کہ فضاء خراب کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا ۔ موقعے پر ہی موجود چندن نگر پولیس کمشنر پی جولگی کو بلایا اور ہدایت کی کہ کسی بھی صورت میں ماحول بگاڑنے والے شرپسندوں کو جلد سے جلد گرفتار کرو ۔ اسکے بعد گورنر رشڑا ریلوے اسٹیشن پر گئے وہاں ریلوے افسروں سے باتیں کی انکے مسائل بھی سنا اور سوموار کی رات یہاں کیا ہوا تھا اسکی تفصیلات معلوم کیا ۔ اسکے بعد گورنر سیدھے کولکاتا کہ ایس ایس کے ایم اسپتال کےلئے روانہ ہوگئے جہاں رشڑا میں اتوار کی شام جھڑپ میں زخمی لوگ جنہیں اس اسپتال میں بھرتی کرائی گئی تھی ان سے ملاقات کئے ۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بی جے پی کے ریاستی صدر شکانتو مجمدار ڈانکونی جگن ناتھ موڑ دہلی روڈ پر بیٹھے رہے اور لگاتار ریاستی حکومت کے خلاف زہر اگلتے رہے ۔ صحافیوں کے سوال پر وہ بھڑک جاتے کہ جلوس میں شامل لوگوں نے بم اندازی کی ہے ؟ اسکے جواب میں بوکھلاہٹ میں انہوں نےکہا کہ ہاں مسجد میں بجرنگ بلی بیٹھکر بم چلا رہا ہے ؟ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ رات واردات کےبعد آج وہاں سے بم بھی برآمد ہوا ہے ؟ انہوں نےکہا کہ یہ رشڑا کے ترنمول لیڈران و حامیوں کی حرکت ہے سب کچھ یہ لوگ ہی کررہے ہیں اور ہمیں بدنام کرنے میں لگے ہیں ۔ اسکی اصل وجہ یہ ہےکہ سامنے پنچایت انتخاب ہے اور مسلمانوں نے ان سے منھ موڑ لیا ہے بس اپنے ووٹ بینک کو ٹھیک کرنے کےلئے یہ لوگ ایسا کررہے ہیں ۔ شکانتو مجمدار نے سے پوچھا گیا کہ آخر آپ یہاں بار بار کیوں آرہے ہیں ؟ اس پر انہوں نےکہا کہ میں یہاں جھڑپ ، فساد میں زخمی لوگوں کے پریوار ، گھر والوں سے ملنا چاہتا ہوں بس ! لیکن پولیس کہتی ہے یہاں جماعت نہیں کرسکے 144 دھارا جاری ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ صرف ہم دو لوگ متاثرہ علاقوں میں جانا چاہتے ہیں مگر پھر بھی ہمیں روکا جارہا ہے ۔ صحافیوں نے بتایا کہ لیکن وہاں 144 نافذ ہے کیسے جائیں گے ؟ اس پر پھر سے بھڑکتے ہوئے کہنے لگے 144 صرف میرے لئے ہے ؟ 144 صرف میڈیا کےلئے ہے ؟ یہ کہتے ہوئے موبائل پر کچھ وڈیوز دیکھاتے ہوئے کہنے لگے کہ دیکھو اور بتاؤ یہ کیسا 144 ہے ۔ ترنمول لیڈران دھڑلے سے گھوم رہے ہیں ۔ اس علاقے میں ” دوارے سرکار ” کیمپ بھی لگا ہواہے آخر کیسے ؟ شکانتو مجمدار نے رام نومی کا موازنہ محرم سے کیا اور کہا کہ محرم کے جلوس کےلئے الگ قانون اور رام نومی کی جلوس کےلئے الگ الگ قانون ؟

   اد ھر سوموار کے روز دن میں علاقے میں شانتی رہنے کے بعد رات میں اچانک سے ماحول بےقابو ہوگیا بم اندازی ، توڑ پھوڑ ، آگ جنی کے بار RAF اتاری گئی ۔ رات بھر پولیس کی جگہ جگہ تلاشی ، چہل قدمی جاری رہی ۔ منگل کی صبح علاقے میں بہتر حفاظتی انتظام کےلئے کافی تعداد میں پولیس کی ڈیوٹی بڑھا دی گئی ۔ چھوٹی بڑی تمام دکانیں ، بازار بند کردی گئی ۔ ادھر ڈانکونی میں دھرنا پر بیٹھے شکانتو مجمدار نے کہا کہ میں کسی بھی صورت میں متاثرہ علاقوں میں جاؤنگا ۔ عدالت سے اجازت لیکر جاؤنگا اس سے قبل ابھی گورنر سے خصوصی ملاقات کےلئے وقت مانگا ہوں انہوں نے دوپہر تین بجے کےبعد ملاقات کرنے کےلئے بلایا ہے ۔ یہ کہکر شکانتو مجمدار یہاں سے کولکاتا کےلئے روانہ ہوئے ۔ لیکن رشڑا میں صورتحال اب بھی نازک بنی ہوئی ہے اب دیکھنا ہے گورنر کی مداخلت پر کتنا اثر پڑتا ہے ویسے پولیس کمشنر پی جوالگی کی کارروائی شروع ہوچکی ہے ۔ خبر لکھے جانے تک ڈکانتو مجمدار گورنر سے ملاقات کرنے کےبعد صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ گورنر ہمیں رشڑا میں جانے کےلئے منع کیا ہےاور حالات کو قابو میں کرنے کا یقین دہانی کروایا ۔ یہاں بھی ایک دفعہ پھر سے سوال اٹھایا کہ محرم میں تلوار نمائش کی اجازت اور رام نومی میں تلوار دیکھ وزیر اعلیٰ کو تکلیف ؟ آخر کیوں ۔ انہوں نے اکثریتی طبقہ کو اکساتے ہوئے کہا کہ ” ہندو سماج بےخوف رام نومی کا تہوار منائیں ” حالات کو قابو کرنے کی ذمہداری ریاستی پولیس کی ہے ۔ ساتھ ہی کہا کہ گورنر سے یہاں مرکزی فورسز اور مداخلت کا مطالبہ کیا ہوں اس لئے کہ یہاں کی حکومت صورتحال کو قابو کرنے میں بالکل ناکام ہے ۔