شہباز حکومت کا سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد حکمران اتحاد کا ہر فورم پر مذاحمت کا عزم

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 06 APRIL

اسلام آباد ،6اپریل: حکمران اتحاد نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے پنجاب میں انتخابات کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ہر فورم پر مزاحمت کا ردعمل ترتیب دے دیا، جس کے تحت پارلیمان سے حکومت کے مؤقف کی توثیق کرائی جائے گی اور آج اجلاس میں ممکنہ طور پر ایک قرارداد پیش کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی شراکت داروں نے سپریم کورٹ کے تین ججوں چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر کے خلاف ریفرنس بھیجنے پر بھی سوچ بچار کیا، جو منگل کو الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب میں انتخابات کے لیے 14 مئی کی تاریخ دینے کے لیے بینچ کا حصہ تھا۔حکمران اتحاد نے اہم فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کیا، اجلاس میں حکمران جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی۔ورچوئل اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا مکمل جائزہ لیا گیا، جہاں لندن سے مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے شرکت کی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیرخزانہ اسحٰق ڈار اور دیگر اراکین کابینہ بھی اجلاس میں شریک تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ ’اراکین قومی اسمبلی نے ابھی جاری سیشن میں اس معاملے پر بحث کی اور ایک قرارداد پہلے بھی منظور کر لی گئی ہے جبکہ دوسری قرارداد جمعرات کو ایوان میں پیش کردی جائے گی‘۔انہوں نے کہا کہ ’اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کرنے کا مقصد مجموعی صورت حال کا جائزہ لینا اور مؤثر جواب تیار کرنا ہے‘۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کو ’آئین اور قانون کے ساتھ مذاق‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تین رکنی بینچ نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کی تھی اور اسی طرح سیاسی جماعتوں کی درخواست بھی مسترد کردی گئی تھی۔