Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 19 APRIL
اسلام آباد ،19اپریل : سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ پاکستان کے ٹکڑے کرنے میں او رسیاسی انتشار میں عدالتی فیصلوں کا بہت بڑا رول رہا ہے۔آج یہاں آئین پاکستان کے قومی وحدت کی علامت ایک کانفریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ 1971میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بلکہ اس کی بیج جسٹس منیر نے بویا ۔ انہوں نے غلط فیصلہ دیا اور ملک کے ٹکڑے ہوگئے۔ انہو ںنے کہا کہ عدالتی فیصلوں سے وزیراعظم بھٹو کو پھانسی دی گئی اور حکومتوں کو گرایا گیا ۔ ابھی تک ہم نے تاریخ سے سیکھا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب مرحوم بھٹواور مخالف جماعتوں میں 1977کے انتخابات پر سیاسی تصادم شروع ہوا ۔ تودونوںفریقین نے اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعہ ہی ختم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تاریخ میں عدالتی بنچوں نے بڑے بڑے فیصلے سنائے جس سے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچا ۔ ہمارے سامنے بہت ساری مثالیں ہیں جو اکثریت سے فیصلہ لئے گئے وہ بھی غلط ہے۔ فیصلہ اکثریت کا ہو یا اقلیت کا وہ قانون کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بڑے وکیلوں کے دلوں میں ا?ئین کی اتنی محبت نہیں کیونکہ ان کی جیبوں میں فیسیں جاتی ہیں، اگر فیصلہ غلط ہے تو غلط رہے گا چاہے اکثریت کا فیصلہ ہو۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سب تائید میں سر ہلانا شروع کردیں تو یہ بات بادشاہت اور آمریت ہوجائے گی، طرح طرح کے آرڈر جاری ہوتے ہیں، پتا نہیں کسے بے وقوف بنا رہے ہیں۔