پہلوانوں کی درخواست پردہلی حکومت کوسپریم کورٹ کا نوٹس

Taasir Urdu News Network – MD ARSHAD  26 APRIL

نئی دہلی ، 25 اپریل (ہ س)سپریم کورٹ نے منگل یعنی 25 اپریل کو ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے پہلوانوں کی درخواست پر دہلی پولیس اور حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ ونیش پھوگاٹ سمیت سات خواتین پہلوانوں نے پیر کو سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ اس میں برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔منگل یعنی آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور پی ایس نرسمہن کی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ اسے ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے بنچ نے ایف آئی آر درج کرنے کے کھلاڑیوں کے مطالبے پر دہلی پولیس اور دہلی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل کو عدالت میں ہوگی۔واضح رہے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی اور مجرمانہ دھمکیاں دینے کا الزام لگاتے ہوئے پہلوان ونیش پھوگاٹ اور دیگر نے دہلی پولس کو ایف آئی آر درج کرنے اور ہدایت دینے کے مطالبے کے سلسلے میں کل سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔درخواست کے مطابق پھوگاٹ اور دیگر پہلوانوں نے دہلی پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے میں “غیر معمو لی تاخیر” کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔23 جنوری کو وزارت کھیل نے اولمپک میڈلسٹ باکسر ایم سی میری کوم کی سربراہی میں مسٹر سنگھ کے خلاف الزامات کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اپریل کے پہلے ہفتے میں اپنی رپورٹ پیش کی، حالانکہ اس کے نتائج ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے۔میری کوم کے علاوہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں اولمپک میڈلسٹ پہلوان یوگیشور دت، سابق بیڈمنٹن کھلاڑی اور مشن اولمپک سیل کی رکن ترپتی مرگنڈے، سابق اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ٹیم) رادھیکا سریمن اور ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم کے سابق سی ای او راجیش راجگوپالن شامل تھے۔نئی دہلی ضلع کے جنتر منتر پر پہلوانوں کا دھرنا مسلسل تیسرے دن بھی جاری ہے۔ پچھلے دو دنوں سے پہلوان جنتر منتر پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ منگل کو احتجاج کا تیسرا دن ہے۔ ریسلنگ فیڈریشن کے صدر برج بھوشن شرن پر پہلوانوں نے جنسی استحصال کا الزام لگایا ہے۔ پیر کی رات بھی بجرنگ ، ساکشی ، سنگیتا اور ونیش سمیت کئی پہلوان جنتر منتر کے احتجاجی مقام پر سو گئے۔دھرنے پر بیٹھے پہلوانوں کو آج بھی سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کی حمایت ملنے کی اطلاعات ہیں۔ دوپہر تک کانگریس لیڈر بھوپندر سنگھ ہڈا پہلوانوں سے ملنے احتجاجی مقام پر پہنچ جائیں گے۔ پیر کو ہندوستانی مہیلا کانگریس کی صدر نیتا ڈیسوزا ،آپ کے راجیہ سبھا رکن سشیل گپتا نے پہلوانوں سے ملاقات کی اور ان کی حمایت کی۔سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے مرکزی حکومت کی اسپورٹس پالیسی کے خلاف جنتر منتر پر دھرنے پر بیٹھے کھلاڑیوں کی حمایت میں حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ملک کا نام روشن کرنے والے بین الاقوامی سطح کے کھلاڑیوں کو دھرنے پر بیٹھنا پڑا، انہیں انصاف ملنا چاہیے، میں خود جنتر منتر پر احتجاجی مقام پر جائوں گا۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ جنوری میں کئی بین الاقوامی سطح کے پہلوانوں نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ اس دوران بھی کشتی کے کھلاڑیوں نے دہلی کے جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا ، اب ایک بار پھر بجرنگ پونیا ، ساکشی ملک ، ونیش پھوگاٹ سمیت کئی پہلوان جنتر منتر پر دھرنا دے رہے ہیں۔