Taasir Urdu News Network – MD ARSHAD 30 APRIL
فرید آباد ، 29 اپریل (ہ س)۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ایک پالیسی نافذ کی جائے گی تاکہ نجی اسکولوں کو من مانے طریقے سے طلباء کو کتابیں فروخت کرنے سے روکا جائے جس سے والدین کو مالی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نئی پالیسی کے تحت کتابوں کے صفحات اور کاغذ کے معیار کے ساتھ قیمتیں بھی طے کی جائیں گی اور ریاستی سطح پر کتابوں کے چارٹ بنا کر عام لوگوں کو معلومات فراہم کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ ہفتہ کو فرید آباد میں ایچ ایس وی پی کنونشن سنٹر میں ضلعی تعلقات عامہ اور شکایات ازالہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شکایات سن رہے تھے۔ اجلاس میں مختلف محکموں سے متعلق کل 14 شکایات رکھی گئیں جن میں سے 12 شکایات کا ازالہ کرکے شکایت کنندگان کو ریلیف فراہم کیا گیا۔ میٹنگ میں رکھی گئی ایک شکایت پر، پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے والدین سے کتابوں کے زیادہ نرخ وصول کرنے پر وزیر اعلیٰ نے محکمہ ثانوی تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انشج سنگھ سے بات کرتے ہوئے ایسے مالی نقصان کو روکنے کے لیے پالیسی بنانے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ کی جانب سے پرائیویٹ اسکولوں کو مقررہ سلیب کے مطابق فیس وصول کرنے کے احکامات بھی دیے گئے۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ افسران کو ہریانہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایچ ایس وی پی) کے تحت پہلے الاٹ کیے گئے سائز کے تنازعات کو فوری اثر سے حل کرنے کا حکم دیا۔ ایچ ایس وی آئی پی کے چیف ایڈمنسٹریٹر سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ ایک پالیسی بنائی جائے کہ ایسے تمام پلاٹ ہولڈرز جن کے ایچ ایس وی پی میں پلاٹ 20 فیصد سے کم یا اس سے زیادہ ہیں، انہیں صحیح سائز کے پلاٹ دوبارہ الاٹ کیے جائیں۔ درخواست گزار کے مطالبہ سے ریاست کے ایسے تمام پلاٹ ہولڈروں کو راحت ملے گی۔وزیر اعلیٰ منوہر لال نے کہا کہ سی ایم ونڈو پر غیر ضروری طور پر شکایت کرنے والوں کی وجہ سے افسران کو کام کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ایسے میں اب ایک ہی فون نمبر سے 20 سے زیادہ شکایات درج کرانے والوں کی نگرانی سی ایم ونڈو پر کی جائے گی۔ شکایات کمیٹی کی میٹنگ میں ایک شکایت کنندہ پون کمار کی طرف سے مختلف محکموں کے خلاف کی جا رہی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ضروری ہدایات دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ افسران کے کام سے متعلق غیر ضروری شکایات اچھی نہیں ، ایسی صورتحال میں شکایت کنندہ کا مسئلہ سمجھ کر حل کیا جائے گا۔انہوں نے فرید آباد شہر کی ڈبوا کالونی میں زمین کو نشان زد کیا اور ضرورت کے مطابق ایس ٹی پی کی تعمیر کا حکم دیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت کرشن پال گرجر، کابینی وزیر مول چند شرما ، ایم ایل اے نین پال راوت ، نریندر گپتا ، میڈیا ایڈوائزر امیت آریہ ، سی پی وکاس ارونہ ، ڈی سی وکرم سنگھ ، ایچ ایس وی پی ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر گریما ، ایم سی ایف کمشنر جتیندر دہیا ، اے ڈی سی اپرا جیتا ۔ سابق سی ایم پولیٹیکل سکریٹری اجے گوڑ ، بی جے پی ضلع صدر گوپال شرما وغیرہ موجود تھے۔