Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 2 MAY
واشنگٹن،2مئی:امریکہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ 12 مئی سے صدر جو بائیڈن کے کرونا بحران کے دوران نافذ کیے گئے قانون کی مدت ختم ہونے پر موجودہ قوانین کو استعمال کرتے ہوئے میکسیکو کی سرحد پر آنے والے ہزاروں تارکین کے امیگریشن کیسز پر کارروائی تیز تر کردے گا۔کرونا وبا کے دوران صدر بائیڈن کے نافذ کردہ قانون کے تحت امریکی حکام کو صحت کی وجوہات کی بنا پر بغیر دستاویزکے آنے والے لوگوں کو فوری طور پر واپس بھیجنے کا اختیار حاصل تھا۔یو ایس ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکرٹری الیجینڈرو میئرکاس نے این بی سی نیوز چینل کے “میٹ دی پریس” شو میں کہا کہ جب خاندان سرحد پر پہنچیں گے تو انہیں امیگریشن نافذ کرنے والی اور ہٹانے کی کارروائیوں کا سامنا ہو گا اور اگر وہ ریلیف کی درخواست دیتے ہیں تو ہم امداد کے لیے اس دعوے کا جلد فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں رہنے کے خواہش مند تارکین وطن کے معاملات دنوں یا ہفتوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ اس میں کئی ماہ درکار نہیں ہوں گے۔اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ امیگریشن حکام نئے خواہش مند تارکین وطن کے کیسز کو موجودہ امیگریشن کیسز جن کی تعداد لگ بھگ 20 لاکھ ہے، سے پہلے سنیں گے۔سرحد پر اکیلے بچوں کے آنے کے حوالے سے میئرکاس نے کہا کہ اگر کوئی تن تنہا بچہ سرحد پر آتا ہے تو متعلقہ قانون کی پیروی کی جائے گی جس کے تحت اس بچے کو تحویل میں لیا جاتا ہے اور حکام 72 گھنٹے کے اندر اس بچے کو محکمہ صحت کو منتقل کرتیہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس کے بعد محکمہ صحت اور انسانی خدمات پر منحصر ہے کہ وہ امریکہ میں اس کے لیے کسی رشتہ دار یا کفیل کو تلاش کرے جہاں وہ اس بچے کو دیکھ بھال کے لیے منتقل کر سکتا ہے۔خبر رساں ادارے ” ایسو سی ایٹڈ پریس ” کے مطابق گزشتہ سال 24 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن امریکہ آنے کے لیے اس سرحد پر پہنچے تھے جن میں سے اکثر کا تعلق وسطی امریکی ممالک سے تھا۔ان خواہش مند تارکین وطن میں کیریبین کے علاقے، افریقہ، یوکرین اور دیگر ممالک سے ا?ئے لوگ شامل تھے۔ان میں سے بہت سے لوگوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے جب کہ دیگر تارکین امریکہ میں داخل ہو کر غائب ہو گئے یا پھر انہیں امیگریشن عدالتوں نے مہینوں اور سالوں کی تاریخیں دے کر امریکی سرزمین پر رہا کر دیا۔