Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 3 MAY
باگیشور دھام کے سربراہ دھیریندر کرشنا شاستری کے پٹنہ پہنچنے سے پہلے ہی ان کی آمد اور ان کے پرگرام ہنومت کتھا کو لے کر ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ دھیریندر کرشنا شاستری 3 سے 17 مئی تک پٹنہ کے نوبت پور کے تریت پالی مٹھ میں منعقد ہونے والےمذکورہ پروگرام میں شرکت کرنے والے ہیں۔اُدھر پروگرام کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور اِدھر آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ اور وزیر تیج پرتاپ یادو پہلے ہی شاستری کے خلاف محاذ کھول چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دھیریندر کرشنا شاستری کی حمایت میں پوسٹر لگا کر مخالفین کو چیلنج بھیک کیا جانے لگا ہے۔بینر پر لکھا ہے ’’روک سکو توروک لو‘‘ ۔
پٹنہ کے انکم ٹیکس گولمبر میں ’سورن کرانتی دل‘ نام کی تنظیم کی جانب سے لگائے گئے پوسٹر میں ، دھیریندر کرشنا شاستری کی مخالفت کرنے والوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ایک نیوز چینل کو دئے گئے انٹر ویو کے مطابق یہ پوسٹر ’سورن کرانتی دل‘ کے لیڈر کرشن کمار کالو نے لگایا ہے۔ کرشن کمار کالو کا کہنا ہے کہ باگیشور بابا بہار آرہے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ خاص طور پرعظیم اتحاد کے رہنما۔ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، انہیں کیسے پتہ چلا کہ دھیریندر کرشنا شاستری سماج کو تقسیم کرنے بہار آ رہے ہیں۔ کالو غصے سے لال ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ دھیریندر کرشنا شاستری بھگوان کے اوتار ہیں۔ جو بھی ان کی مخالفت کرے گا ،اسے بھسم کر دیا جائے گا۔کرشن کمار کالو کے اس دعوے کے بر عکس بہار کے لیبر ریسورس منسٹر سریندر رام کا کہنا ہے کہ ایسے باباؤں سے ہندو مذہب اور سناتن دھرم دونوں کی بد نامی ہو رہی ہے۔ملک، معاشرہ اور مذہب کے مفاد میں ایسے باباؤں کی مخالفت بہت ضروری ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ ایک دوسرے کے مذہب کو لڑانے کا کام کرتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ ایسے منافقوں کا بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ سریندر رام کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں تمام مذاہب اور ذاتوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتے ہیں۔
آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شاستری جیسے لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہیے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ وہ (شاستری) جیل میں نہیں ہیں۔ بی جے پی بہار میں فرقہ وارانہ غنڈوں کو پال رہی ہے۔ اس ملک کے لوگوں کا سنتوں پر بہت اعتماد ہے، لیکن بی جے پی اسے تباہ کر رہی ہے۔ بہار کے وزیر اور آر جے ڈی لیڈر تیج پرتاپ یادو بھی یہی کہتے ہیں کہ دھیریندر شاستری فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے بہار آ رہے ہیں تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔ ا ن کا دعویٰ ہے کہ مذہب کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
اس دوران جب بی جے پی کے ریاستی صدر سمراٹ چودھری سے اس سلسلے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ بھارت ہے، جہاں کسی کو بھی اپنی بات کہنے کا حق ہے، کوئی کسی کو کیسے روک سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آر جے ڈی کسی مذہبی رہنما کے بولنے کی مخالفت کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ فرقہ پرست ہو گیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ چاہے وہ ہندو مذہبی رہنما ہو یا کسی بھی مذہب کا مذہبی رہنما، اسے معاشرے کو اپنی گفتگو سے جوڑنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ کوئی روکتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی کی خوشامد کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دھریندر شاستری 13 سے 17 مئی تک پٹنہ میں ’’ہنومت کتھا ‘‘سنانےآ رہے ہیں۔ پہلے یہ پروگرام گاندھی میدان میں تجویز کیا گیا تھا، لیکن ٹریفک نظام اور بھیڑ کو کنٹرول کرتے ہوئے اسے پٹنہ ضلع کے نوبت پور میں ہی منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دھریندر شاستری 12 مئی کو پٹنہ آئیں گے۔ 13 سے 17 مئی تک پٹنہ کے نوبت پور میں تریت پالی مٹھ میں منعقد ہونے والے ان کے پروگرام کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ دعویٰ ہے کہ اس تقریب میں روزانہ تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔تریت پالی مٹھ دائرہ 600 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے، جس میں’ ہنومت کتھا‘ کے لیے تین لاکھ مربع فٹ میں ایک پنڈال بنایا جا رہا ہے۔ بھومی پوجن ہو چکا ہے۔ عقیدت مندوں کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے 15 لاکھ مربع فٹ پارکنگ بنائی جا رہی ہے۔ عقیدت مندوں کے قیام و طعام کا مفت انتظام کیا جا رہا ہے۔ پرساد کی تقسیم کے لیے 40 سے زیادہ کاؤنٹر قائم کیے جانے کی امید ہے۔ اس کتھا پروگرام میں اتر پردیش، جھارکھنڈ، مغربی بنگال سے بھی عقیدت مندوں کے پہنچنے کا امکان ہے۔اور امکان یہ بھی ہے ’ہنومت کتھا‘ کی آڑ میں دھریندر شاستری ’ہندو راشٹر‘ کا سنکھناد ضرور کریں گے اور ایسا کرتے ہوئے بہار کے ماحول میں مذہبی منافرت کا زہر یقیناََ گھولیں گے۔کچھ لوگ ’ہنومت کتھا‘ کو بی جے پی کا اسپانسرڈ پروگرام بتا رہے ہیں۔ماحول میں نفرت کا زہر جتنا گھلے گا، ایک مخصوص سیاسی جماعت کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔در اصل نفرت کے زہر سے بہار ابھی بہت خائف ہے۔
*************************