TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -5 MAY
تعلیمی پسماندگی صرف اقلیتوں اور پسماندہ کہلانے والی ذاتوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ اترپردیش کے ایک سرکاری جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں جو سو بچے پرائمری درجوں میں داخل ہوتے ہیں ان میں سے صرف ۳۲ سیکنڈری درجوں تک پہونچتے ہیں ۲۲ ہائی اسکولوں تک جاتے ہیں اور ان میں سے تین ڈگری کلاسوں تک پہونچ جاتے ہیں اور پوسٹ گریجویٹ سطح تک صرف ایک ہی کی رسائی ہوتی ہے۔ یہ صور حال یقینا تشویشناک ہے۔
ریاستی حکومت کو اس بات کی چھان بین کرنی چاہئے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے اور اگر یہی کیفیت دوسری ریاستوں میںہے تو مرکز کو چھان بین کا کام اپنے ذمہ لے لینا چاہئے اس کے لئے کمیشن بھی مقرر کیاجاسکتا ہے۔ جو تعلیمی نظام کی زبوں حالی کے اسباب اور علاج کا تفصیل جائزہ لے۔سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں اور طلباء وطالبات کی تعداد اور ریاستی حکومتوں کے تعلیمی بجٹ میں سال بہ سال اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ تعلیم کا شوق بھی مزید بڑھ رہا ہے اس شوق کو پورا کرنے کے لئے لوگوں کو نہ صرف شہروں بلکہ قصبوں اور دیہی علاقوں میں ہی طرح طرح کے ناموں سے مانٹیسری اور کنڈرگاردن اسکول کھول رکھے ہیں، جن کو انگلش میڈیم کہاجاتا ہے اور ان میں کم آمدنی والے لوگ بھی اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں، اس لئے کہ پرائمری اسکولوں کی حالت بہت ہی خستہ ہے۔ زیادہ تر نجی اسکول پڑھائی کی دوکانوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور منافع سازی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں رکھ رکھائو خواہ جیسا ہو مگر پڑھائی کا معیار عام طور پر پست ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نصاب بے مقصد ہونے کی وجہ سے زیادہ تر بچے بہت دنوں تک تعلیم جاری نہیں رکھتے۔
تعلیمی نظام کی بنیاد ی خرابی پرائمری سطح پر موجود ہے۔ سرکار اس سطح پر فی کس چاہے جتنا خرچ کرتی ہو کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اوسط کی پانچ گنی رقم صرف ہوتی ہے۔ مگر تعلیم کا معیار بعض مستثنیات کو چھوڑ کر سب سے نیچے سے لے کر سب سے اونچی سطح تک یکساں طور پر پست ہے اور پست تر ہوتا جارہا ہے کیونکہ پرائمری ٹیچر پابندی سے اسکول نہیں جاتے اور سیکنڈری ٹیچر کلاس میں محنت سے پڑھانے کے بجائے پرائیویٹ ٹیوشن حاصل کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی کے ٹیچر بھی اپنا بہت سا وقت کانفرنسوں، سیمی ناروں، مشاعروں اور کوی سمیلنوں میں لگاتے ہیں اور اس طرح اپنی آمدنی بڑھاتے رہتے ہیں۔ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے ٹیچروں پر جو لعن طعن کی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ لعن طعن کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ٹیچروں پر ہونی چاہئے۔ امتحانوں میں نقل اور دوسرے ناجائز طریقوں کا چلن بھی نیچے سے اوپر تک ہر سطح پر پایاجاتا ہے۔انتظام کی خرابی ٹیچروں کی لاپرواہی اور طلباء کی بدعنوانیوں سے چند افراد فائدہ اٹھالیتے ہیں لیکن پورے تعلیمی نظام بلکہ پورے سماج کو ناقابلِ تلافی نقصان پہونچ رہا ہے اور تعجب ہے لوگ اس نقصان کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔عوام کو بھی تعلیمی صورتحال کو بدلنے کے لئے آگے آنے کی ضرورت ہے۔