TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –8 MAY
بنگلورو 08 مئی: اسمبلی انتخابات میں جیت کی طرف بڑھتی ہوئی کانگریس پارٹی کے حق میں ایک اور مثبت بات یہ سامنے آئی ہے کہ لنگایت طبقہ کے ایک بڑے مضبوط گروہ ‘ کرناٹکا ویر شئیوا لنگایت فورم’ نے ایک کھلے مراسلہ کے ذریعے کانگریس کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ظاہر بات ہے کہ اس سے اقتدار میں دوبارہ واپس لوٹنے کے لئے جان توڑ کوشش میں لگی ہوِئی بی جے پی کو ریاستی سطح پر یقیناً دھچکا ہے۔ یاد رہے کہ ریاست میں لنگایت طبقہ کی آبادی 17 فیصد ہے۔ لنگایت لیڈر ایڈی یورپّا کی ان تھک کوششوں کی وجہ سے 1980 سے اب تک لنگایت طبقہ روایتی طور پر بی جے پی کا مضبوط ووٹ بینک رہا ہے۔ اور تا حال اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے سیاست داں 9 مرتبہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھال چکے ہیں۔ لیکن ادھر پچھلے کچھ عرصہ سے بی جے پی کے اندر ایڈی یورپّا کو کنارے لگانے کی خبریں گرم تھیں جس کے بعد ایڈی یورپّا نے انتخابی میدان سے اپنے آپ کو دور رکھنے کا اعلان کیا۔ دوسری طرف ایک اور سینئر لنگایت لیڈر سابق وزیر اعلیٰ جگدیش شیٹر کو بی جے پی نے ٹکٹ دینے سے انکار کیا تو ناراض شٹر نے بی جے پی سے الگ ہو کر کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان بدلتے ہوئے حالات سے لنگایت طبقہ میں یہ بات عام ہوگئی کہ بی جے پی کے اندر منصوبہ بندی کے ساتھ لنگایتوں کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا رہا ہے۔ اس بیچ کانگریس لیڈر شامانور شیوشنکرپّا اور جگدیش شٹر نے آج ہبلی میں لنگایت سوامیوں سے ملاقات کی جبکہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے گزشتہ ہفتہ سنگمنتھا مندر پہنچ کر لنگایت سماج کے بانی بسویشورا کی سمادھی پر حاضری دی تھی۔ اس کے نتیجہ میں لنگایت فورم کی طرف سے الیکشن سے تین دن قبل اجتماعی طور پر کانگریس کے حق میں ووٹنگ کے لئے اپنے طبقہ سے اپیل کرنا یقیناً کانگریس کے حوصلہ میں اضافہ کرے گا اور بی جے پی پر سبقت لے جانے میں معاون ثابت ہوگا۔ جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے الیکشن میں اور خاص کر نارتھ کرناٹکا کی لنگایتوں کی اکثریت والی تقریباً 100 سیٹوں پر انتخاب لڑنے میں بی جے پی کے لئے انتہائی دشوار مرحلہ درپیش ہوگا۔ جو کہ ریاستی اقتدار پر دوبارہ قبضہ جمانے کی فکر میں لگی ہوئی بی جے پی کے لئے اچھی خبر نہیں ہے