اپوزیشن اتحا د مشن کامیاب ہوگا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –8  MAY

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی ا پوزیشن اتحاد مہم جاری ہے۔اس مہم کو بس کرناٹک کے اسمبلی انتخابات اور نتائج کا انتظار ہے۔ اس کے بعد مہم ایک بار پھر رفتار پکڑے گی۔تب تک وہ اور ان کے لوگ ماحول سازی میں مصروف ہیں۔ نتیش کمار اور اس مہم کے دوسرے رہنما مسلسل اپوزیشن کے رابطے میں ہیں اور ا ہم لیڈروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین دیویش چندر ٹھاکر، جو نتیش کمار کے قریبی ہیں، نے پچھلے دنوں ممبئی میں شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دیویش چندر ٹھاکر نے نتیش کمار کو ان دونوں لیڈروں سے فون پر بات بھی کروائی تھی۔
ممتا بنرجی نے نتیش کمار کو مشورہ دیا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کی پہلی میٹنگ پٹنہ میں ہونی چاہیے۔ نتیش کمار بھی چاہتے ہیں کہ آپریشن اپوزیشن کا آغاز پاٹلی پترا کی سرزمین سے ہی ہو۔ اس کے لیے وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی ٹٹولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ جلد ہی اپوزیشن کے تمام رہنما ایک پلیٹ فارم پر آجائیں گے۔ دوسری طرف پٹنہ میں اپوزیشن اتحاد کا پہلا اجلاس منعقد کرنے کے منصوبے پر پوری سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔ خود اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کرنے سے پہلے نتیش کمار ے اپنے بااعتماد لیڈروں کو ان سے مل کر بات کرنے کا ٹاسک دے رکھا ہے۔ جے ڈی (یو) کے قومی صدر للن سنگھ نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے حال ہی میں ملاقات کی ہے۔ اوڈیشہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک سے ملاقات کا بھی منصوبہ ہے۔نتیش کمار کا مقصد 2024 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مرکز میں اقتدار سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ اس سلسلے میں اپوزیشن یکجہتی کے حوالے سے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ نتیش کمار خود 24 اپریل کو ممتا بنرجی سے ملنے کولکاتہ گئے تھے۔ پھر لکھنؤ گئے اور سماج وادی پارٹی کے سپریمو اکھلیش یادو سے ملاقات کی۔
قیاس کیا جا رہا ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخابات کے بعد پٹنہ میں اپوزیشن اتحاد پر ایک بڑی میٹنگ ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے تیاری بھی جاری ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں مشن 2024 کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ گزشتہ ماہ کانگریس کے اعلیٰ لیڈروں سے ملاقات کے بعد نتیش کمار نے اپوزیشن کے کئی لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔ تاہم اپوزیشن اتحاد کے پہلے اجلاس کی تاریخ اور جگہ کا تاحال فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ابھی سب کی نظر کرناٹک اسمبلی انتخابات اور اس کے نتائج پر ہے۔
جہاں تک کرناٹک اسمبلی انتخابات کی بات ہے تو اس سلسلے میں ابھی یہی کہا جا سکتا ہےکہ کل 10 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے تمام پارٹیوں کے لیڈر سخت محنت کر رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کرناٹک کو بھارتی سیاست میں’’گیٹ وے ٹو دی ساؤتھ ‘‘کہا جاتا ہے۔ اس ریاست میں جیت درج کر کے، جہاں فی الحال حکمراں بی جے پی جنوبی ہند کے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے کمر کسنا چاہتی ہے۔ کانگریس جنوبی سیاست میں بی جے پی کو پیچھے کے لئے جدو جہد کر رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں اصل مقابلہ بی جے پی، کانگریس اور جنتا دل سیکولر کے درمیان ہے۔ 2018 کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے سب سے زیادہ 104 سیٹیں جیتی تھیں لیکن یدی یورپا اکثریت ثابت نہیں کر سکے اور پھر جے ڈی ایس لیڈر کمار سوامی نے حکومت بنانے کے لیے کانگریس پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ لیکن مئی 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست شکست کے بعد، بی جے پی کے بی ایس یدی یورپا جے ڈی ایس-کانگریس اتحاد کو توڑ کر ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ بی جے پی نے جولائی 2021 میں یدیورپا کی جگہ لی اور بسواراج بومائی کو وزیر اعلیٰ بنایا۔اب کرناٹک میں اگلی حکومت کس کی بنتی ہے اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کون ہوتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتا ئے گا، لیکن یہ طے ہے کہ حکومت خواہ جس کی بھی بنے، نتیش کمار اور ان قریب ترین رہنما خاموش بیٹھنے جا رہے ہیں۔انھوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میںجے پی کو 100کے کے اندر ہی سمیٹ لینا ہے۔اسی عہد کے ساتھ وہ اپنے مشن پر ڈٹےہوئے ہیں۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ نتیش کمار کے ایکشن میں بلا کی خود اعتمادی ہے اور جب نتیش کمار بلند عزم کے ساتھ کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس میں ان کو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ سب کا کہنا ہے کہ ان کااپوزیشن اتحا د مشن بھی کامیاب ہوگا۔
****************