TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –9 MAY
متنازع فلم ’’دی کیرالہ سٹوری‘‘ کو لے کر بات اب سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے فلم پر پابندی لگانے سے انکار کرنے والے کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اب سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی جلد از جلد سماعت کی جائے۔ چیف جسٹس نے 15 مئی کو سماعت کے لیے کہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 5 مئی کو کیرالہ ہائی کورٹ نے فلم’’ دی کیرالہ سٹوری‘‘ کی ریلیز پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ فلم کے ٹریلر میں کسی خاص برادری کے خلاف کوئی قابل اعتراض نہیں ہے۔ عدالت نے حکم دینے سے پہلے فلم کا ٹریلر دیکھا۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس فلم میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کچھ نہیں ہے۔
کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا کہ اس فلم میں مسلم مذہب پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے، بلکہ آئی ایس آئی ایس کی کہانی دکھائی گئی ہے۔ دراصل فلم میں ان لڑکیوں کی کہانی ہے، جو نرس بننا چاہتی تھیں لیکن داعش کی دہشت گرد بن گئیں۔ اس فلم کو لے کر ملک بھر میں تنازع چل رہا ہے۔ مغربی بنگال میں سی ایم ممتا بنرجی نے اس پر پابندی لگا دی ہے۔ تمل ناڈو میں بھی فلم کی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ سنیما ہالز نے کیا ہے۔ جبکہ یوپی حکومت نے اسے ٹیکس فری کر دیا ہے۔سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے خود ٹویٹ کرکے فلم کو ٹیکس فری بنانے کی بات کہی تھی۔اس سے قبل فلم کو مدھیہ پردیش میں ٹیکس فری کر دیا گیا تھا۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان ہفتہ (6 مئی) کو کیرالہ کی کہانی۔ فلم کو ریاست میں ٹیکس فری قرار دیا گیا تھا۔ اب اتراکھنڈ حکومت بھی اس فلم کو ٹیکس فری بنا سکتی ہے۔مہاراشٹرا اور دہلی میں بھی فلم کو ٹیکس فری کرنےکا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر کے ناسک میں ہندو ساکل سماج کا کہنا ہے کہ’’ دی کیرالہ اسٹوری ‘‘کے ذریعے لو جہاد کا پورا عمل لوگوں کے سامنے آیا ہے۔ امید ہے کہ سی ایم ایکناتھ شندے اس فلم کو ٹیکس فری بنائیں گے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ ریاست میں فلم ’’دی کیرالہ سٹوری‘‘ کی نمائش پر پابندی لگا د ئے جانے سے سیاست تیز ہو گئی ہے۔تب سے بی جے پی بنگال کی ممتا حکومت پر مسلسل حملہ آور ہے۔ اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری نے بھی ٹویٹ کرکے سی ایم ممتا بنرجی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ممتا کو داعش سے ہمدردی ہے؟ اگر یہ فلم دکھائی جاتی ہے تو مغربی بنگال میں امن و امان کیوں خراب ہوگا؟ سویندو ادھیکاری نے کہا کہ جہاں تک وہ جانتے ہیں، فلم’’دی کیرالہ اسٹوری‘‘ کیرالہ میں مذہبی اصولوں پر مبنی ہے، جس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کہ کس طرح انتہا پسند مذہبی مولویوں کے ذریعہ خواتین کو بنیاد پرست بنایا جاتا ہے۔ فلم میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کیرالہ میں خواتین کو تبدیل کیا گیا اور انہیں شدت پسند دہشت گرد تنظیم داعش کے لیے لڑنے کے لیے افغانستان، یمن اور شام جیسے ممالک میں بھیجا گیا۔ ان کا خیال ہے کہ فلم پر پابندی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے ورنہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔فلمی شخصیت اور تجربہ کار اداکارہ شبانہ اعظمی بھی اس فلم کی حمایت میں سامنے آگئی ہیں اور ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ایک بار جب کسی فلم کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن سے کلیئر کردیا جاتا ہے تو کسی کو اس کی مخالفت کرنے کا حق نہیں ہوتا۔
دوسری جانب ملک کا ایک بڑا سیکولر طبقہ اس فلم کو جھوٹی اور فرضی کہانی پر مبنی، مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سیاسی اور سماجی سازش مان رہا ہے اور اس پر پابندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے صحافی اروند کشن نے مرکزی وزارت داخلہ اور ملک کے فلم سر ٹیفکیشن بورڈ کے سر براہ پر سون جوشی کو خط لکھ کر فلم پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک فلم کی ریلیز کی اجازت نہ دی جائے جب تک فلم سازا اپنے دعوے کے حق میں ثبوت نہ دیں ۔ صحافی نے وزیر اعلی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ فلم ’’دی کیرالہ اسٹوری‘‘ کو ریلیز کیا گیا تو سماج پر اس کے برے نتائج مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فلم انڈیا کے اتحاد اور خود مختاری کے خلاف اور انڈیا کی تمام خفیہ اجنسیوں کی ساکھ پر داغ ہے۔اِدھر خوش آئند بات یہ ہے کہ کیرالہ پولیس نے فلم ساز اور دیگر ارکان کے خلاف بے بنیاد کہانی پر کیس درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیرالہ کے ڈائکر ٹر جنرل آف پولیس انیل کانت نے تروانت پورم کے پولیس کمشنر سیار جن کمار کو ہدایت کی کہ وہ فلم کے عملے کے خلاف ریاست کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کریں ۔کیرالہ حکومت کی کمیونسٹ پارٹی کے قانون ساز جان برٹامن نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا جس میں ان سے فلم سازوں کے خلاف سخت کارروائی کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔ ایک طرف ملک کی حکمراں جماعت کے لوگ فلم کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری جانب سیکولر عوام اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیسا آتا ہے۔عوام کا ماننا ہے آخری فیصلہ اب سپریم کورٹ کو ہی کرنا ہے۔
*****