سعودی عرب کاشام میں اپنے سفارتی مشن میں کام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –10  MAY

ریاض،10مئی:سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ دمشق میں اپنے سفارت کاروں کو دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت دے گا۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ نے منگل کوایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے شام میں اپنے سفارتی مشن میں کام دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزارتِ خارجہ نے یہ اعلان مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے وزراء￿ خارجہ کے اتوارکو اجلاس کے دوروز بعد کیا ہے۔اس اجلاس میں شام کی عرب لیگ کی دوبارہ شمولیت پراتفاق کیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب’’مشترکہ عرب لائحہ عمل کو فروغ دینے‘‘کی کوشش کرے گا۔ وزارت خارجہ نے عرب لیگ کے حالیہ اجلاسوں اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شام کی گروپ کے اجلاسوں اور تنظیموں میں شرکت پر پابندی کو غیرمنجمد کردیاگیا ہے اوراب وہ اس کے اجلاسوں میں شریک ہوسکتاہے۔اس نے کہا ہے کہ سفارتی خدمات کی بحالی سے سعودی عرب اورشام کے عوام کے مابین ’’برادرانہ تعلقات‘‘ اور علاقائی سلامتی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔یہ اقدام شامی صدربشارالاسد کی دمشق میں اپریل میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے چند ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے۔کسی سعودی وزیرخارجہ کا 2011 میں شام میں خانہ جنگی چھڑنے کے بعد اس طرح کا یہ پہلا دورہ تھا۔شام میں مسلح تنازع شروع ہونے کے بعدسے بشارالاسد خطے میں سیاسی طورپرالگ تھلگ ہوکررہ گئے تھے لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بحال کرنے کے فیصلے کے بعدشام کو عرب دھارے میں واپس لانے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔واضح رہے کہ بائیس رکن ممالک پرمشتمل عرب لیگ نے مارچ 2011 میں اسد حکومت کے پرامن مظاہروں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کے ردعمل میں شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔پْرامن مظاہرین کے خلاف یہ کارروائی بعد میں مکمل جنگ کی شکل اختیارکرگئی تھی اور اس میں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔سعودی عرب نے 2012 میں بشارالاسد کی حکومت سے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔اب صدراسد کوامید ہے کہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے سے معاشی ریلیف اور تعمیرِنو کے لیے رقوم دستیاب ہوسکتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی حمایت سے اس تنازع کے سیاسی حل کے بغیروسیع تر بین الاقوامی فنڈنگ ناممکن ہے۔