!کہیں راجستھان ہاتھ سے نہ نکل جائے

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –11  MAY

کانگریس ابھی کرناٹک میں کچھ سنبھلتی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ اسی دوران راجستھان کی حکمراں کانگریس یونٹ کی گٹ بازی ایک بار پھر اپنے شباب پر نظر آنے لگی ہے۔وہ بھی ایسے وقت میں جب راجستھان اسمبلی انتخابات چار پانچ ماہ میں ہونے والے ہیں۔وزیر اعلی اشوک گہلوت سچن پائلٹ کے قابل اعتماد ایم ایل اے پر بی جے پی سے پیسے لینے کا براہ راست الزام لگا رہے ہیں۔ دوسری طرف پائلٹ گہلوت کی وفاداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اپنی ہی حکومت کے خلاف ایک دن کی بھوک ہڑتال کے بعد پریس کانفرنس میں سی ایم کے خلاف محاذ کھولنے والےناامیدپائلٹ بھی پد یاترا نکالنے والے ہیں۔ اس رویے سے صاف ہے کہ پائلٹ اب آر پار کے موڈ میں ہیں، لیکن کانگریس اعلیٰ کمان کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے میں کانگریس اعلیٰ کمان حد سے زیادہ کنفیوز ڈہے، لیکن زیادہ دیر  کنفیوزڈ رہنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔کیوں کہ اسمبلی انتخابات سر پر ہیں۔ فی الحال یہ خدشہ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ 2021 میں پنجاب میں جو کچھ ہوا کہیں اس بار راجستھان میں نہ ہو جائے۔

  یہ بات صحیح ہے کہ پہلے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے بغیر کسی اشتعال کے سچن پائلٹ گروپ کے ایم ایل اے پر حملہ کیا۔ نام لیے بغیر سابق وزیر اعلی وسندھرا راجے اور 2 دیگر بی جے پی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے باغیوں کی مدد سے 2020 میں ان کی حکومت گرانے کی کانگریس کی کوشش کی حمایت نہ کی۔ پائلٹ کے حامی ایم ایل ایز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ کانگریس کے کچھ ایم ایل اے نے ان کی حکومت گرانے کے لیے بی جے پی سے پیسے لیے۔ دوسری جانب پائلٹ نے پریس کانفرنس کرکے گہلوت پر سیدھا جوابی حملہ کیا۔ پارٹی سے ان کی وفاداری پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان کی لیڈر سونیا گاندھی نہیں بلکہ وسندھرا راجے ہیں۔ ایم ایل اے سے پیسے لینے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سابق ڈپٹی سی ایم نے کہا کہ جو ایم ایل اے ان کے ساتھ دہلی گئے وہ سبھی پارٹی کے ایماندار اور ڈیڈیکیٹڈ لیڈر ہیں۔

لہٰذا،سچن پائلٹ اب آر پار موڈ میں نظر آ رہے ہیں۔ پارٹی ہائی کمان کے انتباہ کے باوجود، 11 اپریل کو، انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کے خلاف ایک روزہ دھرنا دیا تھا۔ اب وہ بدعنوانی کے خلاف 11 مئی سے 5 روزہ پد یاترا پر ہیں۔ ان کی یہ پد یاترا اجمیر سے شروع ہو کر جے پور تک جائے گی۔ جب پائلٹ نے گزشتہ ماہ ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کیا تو راجستھان کے کانگریس انچارج سکھجندر سنگھ نے انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو اسے ’’پارٹی مخالف سرگرمی ‘‘تصور کیا جائے گا۔ پائلٹ نے تادیبی کارروائی کے انتباہ کے باوجود دھرنا دیا۔ اب اشوک گہلوت نے پائلٹ کیمپ کے خلاف سخت حملہ کیا ہے لیکن ہائی کمان کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ یہ بات پائلٹ اور ان کے حمایتی ایم ایل اے کو مشتعل کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منگل کو پریس کانفرنس میں پائلٹ گہلوت پر حملے کو لے کر کافی بے رحم نظر آئے اور مارچ کا اعلان بھی کیا۔

  پائلٹ کے رویے سے واضح ہے کہ اب اس کا صبر جواب دے رہا ہے اور وہ زیادہ انتظار کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ وہ راجستھان میں قیادت کی تبدیلی کے اپنے مطالبے پراعلیٰ کمان سے واضح فیصلہ چاہتے ہیں۔ اگر گہلوت کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا، جس کا امکان زیادہ ہے تو سچن پائلٹ کا راستہ بھی کانگریس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ وہ مسلسل اشارہ کر رہے ہیں کہ اب وہ مزید انتظار کرنے اور مزید جھکنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

  کانگریس اعلیٰ کمان راجستھان میں پارٹی کی اندرونی کشمکش پر خاموش ہے۔ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں ، پارٹی نہیں چاہے گی کہ راجستھان میں اس کی اندرونی گروپ بندی قومی سطح پر سرخیوں میں آئے۔راجستھان میں انتخابات سے عین قبل جس طرح سے گروپ بندی عروج پر پہنچی ہے، ڈیڑھ سال پہلے پنجاب میں بھی وہی نظر آیا تھا۔ وہاں بھی کانگریس کی حکومت تھی۔ ریاستی یونٹ میں جو گروہ بندی پہلے سے چل رہی تھی اس نے ا نتخابات کے آتے ہی زبردست شکل اختیار کر لی تھی۔بالآخر اس وقت کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اور ان کے مخالف نوجوت سنگھ سدھوکو الگ کرکے اعلیٰ کمان نے چرنجیت سنگھ چنی کو نیا وزیر اعلیٰ بنا دیا۔جس کا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑا۔اگلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو بری طرح شکست ہوئی۔ آج ٹھیک وہی صورتحال راجستھان میں کانگریس کے سامنے ہے۔  اب کانگریس ہائی کمان کے سامنے مخمصہ یہ ہے کہ اگر گہلوت کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے تو وہ شاید کپتان کے راستے پر نہ چلیں اور پنجاب کا واقعہ راجستھان میں نہ دہرایا جائے۔ دوسری جانب اگر پائلٹ بھی استعفیٰ سے کم کچھ ماننے کو تیار نہیں تو پھر بھی انتخابات سے عین قبل پارٹی میں پھوٹ پڑنے کا امکان موجود ہے۔دونوں حالتوں میں کانگریس کو نقصان ہے۔

  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کانگریساعلیٰ کمان راجستھان میں پائلٹ کو منانے کے لیے قیادت کو تبدیل کر سکتی ہے؟  جس طرح پنجاب میں کیپٹن امریندر کی جگہ چرنجیت سنگھ چنی کو وزیراعلیٰ بنایا گیا، کیا راجستھان میں بھی کچھ ہو سکتا ہے؟ موجودہ حالات میں اس کا جواب’’ ہاں‘‘ قطعی نہیں ہے۔کیوںگہلوت کے حامی ایسا ہونے نہیں دیںگے۔وزیر اعلیٰ کی کرسی کے لئے خود گہلوت نے بھی پارٹی کے قومی صدر کے عہدے درکنار کر دیا ہے۔لیکن دوسری طرف پائلٹ کا دباؤ ہے۔ایسے میں کانگریس اعلیٰ کمان کو بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا ہوگا۔بصورت دیگر کرناٹک کی جیت کا جشن منانے کے چھ ماہ کے بعد راجستھان ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔