TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –14 MAY
کسی بھی ملک کے لئے حکومت کا جمہوری طریقۂ کار اس ملک کے عوام کے لئے رحمت ہوا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ان ممالک میں جہاں اب تک ڈکٹیٹر شپ بار بار لگنے کی روایت چلی آرہی ہے، وہاں کے عوام جمہوریت کے قیام کے لئے تحریکیں چلارہے ہیں اور اس حق کے لئے برابر جد و جہد میں مصروف ہیں۔
انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونے کے بعد ہندوستان میں بھی حکومت کا جمہوری طریقہ اپنایا گیا تاکہ عوام اپنے نمائندوں کو خوب سمجھ کر اور پرکھ کر ایوانوں میں بھیجیں جو وہاں جاکر اُن کے مسائل، ان کے دکھ درد کو دور کرنے کے لئے کام کریں، ملک میں اقلیتوں کی جو کثیر آبادی ہے اس کی زبان، اُس کی ثقافت اور خود اُس کا تحفظ ہوسکے۔ ملک میں جمہوری طور طریقوں سے اتحاد، میل جول اور ترقی کے جو سوتے پھوٹیں وہ سب کو سیراب کرسکیں جس طرح کسی دریا کا پانی کھیتوں میں پھیلتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کس کا کھیت ہے، ہندو کا یا مسلمان کا بلکہ وہ تو چپ چاپ نہایت خاموشی سے کھیتوں کو سیراب کرتا چلا جاتا ہے اور اِس کے نتیجہ میں کھیتیاں سرسبز و شاداب ہوتی ہیں۔
مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہونے کے باوجود اُس کے فوائد و برکات سب کو حاصل نہیں، جس کی بنیادی وجہ جمہوریت کی خرابی نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والوں کی کوتاہی ہے۔ عوام الناس یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے دکھ درد کبھی دور ہونے والے نہیں ہیں۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کے ذہن و فکر میں یہ بات بیٹھتی جارہی ہے کہ ملک میں روز افزوں فرقہ پرستی، امیر و غریب کے درمیان بڑھتی خلیج اور اس کے نتیجہ میں بُھک مری، یہ سب جمہوریت کی دین ہے۔
ملک کے اربابِ اقتدار خاص طور پر عوامی نمائندگان اور آج کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورت حال کو سمجھیں اور اپنے قول و فعل سے ثابت کریں کہ جمہوریت، بھارت کیا بلکہ پوری دنیا کے مسائل کا حل ہے اور دیر سویر اس کے ذریعہ اُن کی پریشانیاں دور ہوں گی۔ آج اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو کل پھر بہت دیر ہوجائے گی اور صورت حال قابو سے باہر ہوئی تو دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت کو ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
ایشیا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں جمہوریت کا چراغ گل اِسی طرح ہوا ہے کہ اُس پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا۔ بھارت میں ایسا نہ ہو اس کی سب کو فکر کرنا ہے۔ سوویت یونین جیسی عظیم طاقتوں کے زوال نے بہت پہلے یہ بات واضح کر دی تھی کہ کوئی بھی نظام کتنا ہی فولادی کیوں نہ ہو جب عام انسانوں کے مسائل حل کرنے، ان کو روزی و روٹی فراہم کرنے اور فرقہ پرستی و جانبداری کی دِن بدن گہری ہوتی فضا کو چھاٹنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو تاش کے پتوں کی طرح بکھر جانا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا یہ حال نہ ہو اِس کی فکر سبھی کو ہونی چاہئے۔ بالخصوص آج جو ملک کے اقتدار پر فائز ہیں وہ وزیر اعظم نریندر مودی ہی کیوں نہ ہوہوں اگر یہ جمہوریت کے تئیں اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتے اور عوام کا دکھ و درد دور کرنے کے لئے ان کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دیتے تو مایوسی کی فضا گہری ہوتی جائے گی اور ایک دن جمہوریت کو ہی لے ڈوبے گی، اس پر وقت رہتے سوچنا اور عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔
*********

