TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –15 MAY
موتیہاری (رفیع احمد )اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر ماہ میں اردو دوستوں پر مشتمل نشست کا انعقاد کیا جانا وقت کا تقاضہ ہے۔از قبل ڈاکٹر تبریز عزیز سرپرست انجمن و ڈائرکٹر رحمانیہ میڈیکل سنٹر نے گزشتہ کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے تمام مسائل جو حکومت بہار سے منسلک ہیں ان کے مثبت حل وقرار کے لیے ایک وفد ضلع مجسٹریٹ مسٹر سوربھ زور وال سے مل کر ضلع مشرقی چمپارن میں اردو کے تئیں ہو رہی نا انصافیوں کی توجہ مزکور کرانا اہم ترین فریضہ ہے۔بعد ازاں محکمہ سے ربط استوار کر اردو کے حق و حقوق کے تقاضے کو مکمل کرنے کی طرف پیش رفت کرنا نا گزیر ہو جاتا ہے۔موصوف ڈاکٹر تبریز نے اپنے ایک انفرادی تجربہ کے حوالے سے بتایا کہ ایک مقامی مدرسہ میں بچوں کی تعداد بہت کم تھی۔ انہوں نے علاقائی بچوں کے درمیان میٹھائی تقسیم کی اور کھیل کود کے سامان کا نظم کیا ۔ ایک ماہ کے اندر بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا اور تعلیم
کی طرف مائل ہو گئے۔اس نوع کے دوسرے اسباب کو حلقہ میں پیش کرنے کے ساتھ اردو کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا جائے علاوہ ازیں اردو کے مفادات کو عوامی سطح پر مہمیز کی ضرورت ہے۔صدارت کی مسند سے تنویر احمد خاں نے ہر ایک مسجد میں اردو بیداری مہم کے تحت ہینڈ بل کو ایک عرصہ سے عام عوام کے درمیان خوش اخلاقی سے تقسیم کر رہے ہیں۔ ائمہ مساجد بھی اپنے خطاب میں اردو پھنے لکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ تنویر احمد خاں نے کہا کہ عنقریب اردو لائبریری موتیہاری کے احاطہ میں اردو کی افادیت سے متعلق ایک جلسہ کا انعقاد کو عمل میں لانے کا اعلان کیا جس میں اردو داں و مدرسے کے اساتزہ کرام کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔ ڈاکٹر خورشید عزیز نائب صدر ریاستی اقلیتی سیل جد یو بہار نے اپنے معرکت الارا تجویز میں کہا کہ مدارس اسلامیہ کی وجہ سے اردو زبان عصر حاضر میں زندہ ہے مزید ان کی توجہی کی درکار ہے اس لیے مدارس کے اساتذہ حضرات سے شیر و شکر ہو کر اردو بیدار تحریک کو استحکام بخشنے کی ضرورت ہے۔حسن ندوی نے کہا کہ اردو آبادی میں ہر ایک فرد سے تبادلہ خیال کرنا
اور مل جل کر اردو ماحول کو ہموار کرنا نصب العین ہے۔ایڈوکیٹ مختار عالم نے کہا کہ وسطانیہ،فوقانیہ کی تعلیمات اور نظم و ضبط کو مزید معیاری بنانے کی ضرورت ہے۔امتحانات کے لیے پری ٹیسٹ کا نظم کیا جائے تو بہتر ہے۔شکیل صدیقی نے کہا کہ مسلم علاقہ میں وفد بھیجنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر محمد امر اللہ،حیدر مہدی،ظفر رشیدی،ایڈوکیٹ شمس الرحمان اور فصیح اختر موجود تھے۔