اب ناٹک سے کام نہیں چلنے والا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –17  MAY

بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تریت پالی میں 13 مئی سے شروع پنڈت دھیریندر کرشنا شاستری عرف باگیشور دھام سرکارکی ’’ہنومنت کتھا‘‘ کل 17 مئی کو اختتام پذیر ہو گئی۔پانچ دنوں تک چلی بابا کی’’ ہنومنت کتھا‘‘ سے جڑی کئی باتیں برسوں یاد رہیں گی۔ خاص طور پر بابا نےاپنی کتھا کی آڑ میں بہار کی سر زمین میںمذہبی منافرت کا جو زہر بویا ہے ، اس کا اثر بھلے ہی دیر پا نہیں ہو، لیکن اس کے پیچھے جو ایجنڈہ کار فرما رہا ہے وہ ریاست کی سیاست کو کچھ دنوں تک گرم رکھنے کے لئے کافی ہے۔

گریجویشن تک پڑھے لکھے 27 سالہ پنڈت دھیریندر کرشنا شاستری ایک کتھا واچک ہیں۔یہ مدھیہ پردیش کے چھتر پور ضلع واقع ایک دھارمک تیرتھ استھل باگیشور دھام سرکار کے پجاری ہیں۔دانشور طبقہ انھیں عوام میں اندھ وشواس پھیلانے والا ڈھونگی بابا کہتا ہے۔ان پر اندھ وشواس پھیلانے کا  ایک مقدمہ بھی دائر ہو چکا ہے۔نیوٹرل میڈیا نے ان کی دماغی اڑان کا ڈی این اے ٹسٹ کرکے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر’’پول کھول‘‘ پروگرام بھی چلایا ہے۔مگر اس طرح کے معاملوں سےخود کو بچانے کے لئے جب سے نام نہاد بابا نے ’’ہندوراشٹر‘‘ کا نعرہ لگانا شروع کیا ہے، تب سے یہ ملک کی ایک سیاسی جماعت کے قریب سے قریب تر ہوتے چلے گئے ہیں۔اور ان کی اس خوبی کی بدولت گودی میڈیا نے انھیں ’’مہما منڈن‘‘ کے ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے۔چند مہینوں کی کسرت سے دھیریندر گرگ نام کے ایک نوجوان کو گودی میڈیا نے بھگوان سے بھی آگے کا درجہ دے دیا ہے۔ اب بابا دوّیہ دربار لگاتے ہیں، پرچیاں نکالتے ہیں، لوگوں کا ماضی اور حال بتاتے ہیں ساتھ ہی مستقبل کے خطرات سے بچنے کے لئے ضروری مشورے بھی دیتے ہیں۔

13 سے 17 مئی تک بابا کا پٹنہ میں خوب جلوہ رہا ۔ بھکتوں کی بھیڑ چال دیکھ کر بار بار انھیں پاگل بھی کہا۔ انھیں’’ ہندتو ‘‘کے فارمولے بھی دئے۔ اپنی پٹنہ آمد کے بعد اپنے اندھ بھکتوں کی حرکتوں کو دیکھ کر سب سے پہلے جو عوامی بیان دیا تھا وہ تھا’’ بھارت تو کب سے ہندو راشٹر ہے، صرف’’ گھوشنا‘‘ باقی ہے۔‘‘ اپنی کتھا کے دوران بھی وہ اپنے ایجنڈے پر قائم رہے۔ انھوں نے اپنے پاگلوں کی تالیوں کے درمیان یہ بھی کہا کہ بہار سے ہی’’ ہندو راشٹر‘‘ کا جے گھوش ہوگا۔میں اسی لئے بہار واسیوں کو جگانے کے لئے پٹنہ آیا ہوں۔ جب تک نہیں جگیں گے، میں جگاتا رہوں گا۔جوش میں آکر انھوں نے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو یہاں تک کہہ دیا ہے ’’ بھارت میں جو رہنا ہوگا سیتا رام کہنا ہوگا۔‘‘

بابا کے بہارپہنچنےسے پہلے ہی وہاں سیای بوال پہنچ چکا تھا۔ حالانکہ کے چند سیاسی لوگوں کو چھوڑ کر کوئی بھی انھیں سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا۔پٹنہ میں اپنے قیام کے دوران بابا پوری صورتحال کو بھانپتے ضرور رہے۔جب ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کاچرچا عام ہوا تو حکومت بہار کی خوشامد کرنے لگے۔اپنے آخری دن کی کتھا میںشریمان ہنومان جی کو بھول کرحکومت کا گن گان کرنے لگے۔  بابا نے بہار کی انتظامیہ کو اسٹیج سےہی پرچی نکالتے ہوئے کہا کہ میں اتنی شدید گرمی میں بہار حکومت کے انتظامی افسران کی تعریف کرنا چاہوں گا۔ بابا نے کہا کہ ’’ہنومنت کتھا‘‘ کے دوران انتظامی افسران اور پولیس اہلکاروں نے اپنی ڈیوٹی بخوبی نبھائی۔ اسٹیج کے سامنے کھڑے پولیس والوں سے خطاب کرتے ہوئے بابا نے کہا کہ انہیں بہار میں اچھا انتظامی نظام دیکھنے کو ملا۔ بہار کی انتظامیہ بہت اچھی ہے۔ بابا نے کھل کر بہار حکومت کی تعریف کی۔ لیکن بابا کی یہ خوشامد کام نہیں آئی۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے انھیں اپنے رڈار پر لے ہی لیا۔

  جب میڈیا والوں نے نتیش کمار سے باگیشور دھام سرکار کے بارے میں ان کا ردعمل پوچھا تو نتیش کما ر اپنے فطری تیور میں آگئے۔  ’’ہندو راشٹر‘‘ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے نتیش کمار نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دھیریندر شاستری کو ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ ملک کا نظام آئین سے چلے گا۔ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ملک کی جدوجہد آزادی میں کون لڑا تھا؟۔ہم بابائے قوم پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی باتوں کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔ جو اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، کیا وہ آزادی سے پہلے پیدا ہوئے تھے؟  نتیش کمار نے کہا کہ ان کے والد آزادی کی جدوجہد میں بہت سرگرم تھے۔  ہمارے بچپن میں ہی انھوں نے ہمیں آزادی کے بارے میں ایک ایک بات بتائی تھی۔ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ بھارت سیکولر ملک ہے۔ کسی کے اسٹیج سے بیان دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔انھوں نے بابا کو ایسی حرکت نہیں کرنے کی نصیحت بھی دی۔بھارت میں سات مذاہب ہیں۔  یہاں سب کا اخترام ہے۔ بہار میں سب کے مفاد میں کام کیا جاتا ہے۔ کسی بھی مذہب کے لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہے۔ جب چھوٹے بھائی نے بہار میں موجودگی کے دوران بابا اور ان کے پاگلوں کو آئینہ دکھایا تو بڑے بھائی کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ لگے ہاتھ انھوں نے بھی زور کا جھٹکا د لگاتے ہوئے لوگوں سے سوال کیا ’’ای دھیریندر شاستری کون ہے ؟‘‘

بابا دھیریندر شاستری کی آمد اور ان کی ’’ہنومنت کتھا‘‘ کے حوالے سے بہار کی سیاست میں پیدا ہوئی ہلچل کو دزدیدہ نظروں سے دیکھنے والے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ پورا پروگرام ایک سیاسی جماعت کا اسپانسرڈ پروگرام تھا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد سیاسی و سماجی پولرائزیشن تھا۔ لیکن اسی دوران کرناٹک کے رزلٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب اس طرح کے ناٹک سے کام نہیں چلنے والاہے۔

***********************