TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –24 MAY
ہگلی24/مئی (محمد شبیب عالم) سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی بھرتی ریاست میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ آئے دن اسپتالوں میں کبھی مریض کے گھر والے کی ڈاکٹروں سے جھڑپ کی خبریں آتی ہیں تو کبھی اسپتال میں کام کرنے والے ورکروں سے لڑائیاں کی خبریں سننے دیکھنے کو ملتی ہے ۔ اس سے خود ریاستی رہنماء بھی محفوظ نہیں رہے جس کو لیکر کافی ہنگامہ مچی ہوئی ہے ۔ اور ابھی یہ مسئلہ حل بھی نہیں ہوا تھا کہ ہگلی ضلع کے شیرامپور والس اسپتال میں بھی کچھ اسی طرح کا نظارہ دیکھنے ملا ۔ مریض بھرتی کرنے کو لیکر کاؤنسلر کےساتھ اسپتال کے ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکروں کےساتھ جھڑپ کی وڈیو وائرل ہورہی ہے۔
حال ہی میں ایم ایل اے مدن مترا ایک بائک حادثے میں زخمی ہوئے نوجوان کو ایس ایس کے ایم اسپتال کے ٹراما کیئر میں داخل کرتے ہوئے تنازعہ میں پھنس گئے تھے ۔ اسپتال نے ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ۔ بالکل اسی طرح ڈنکونی میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 18 کے ترنمول کونسلر سوریا دے منگل کی رات ایک نوجوان خاتون کو سریرام پور والس اسپتال میں داخل کرانے کے لیئے لے گئے۔ لیکن وہاں مریض کو داخل نہ کرنے پر دونوں فریقوں میں جھگڑا شروع ہوگیا وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ سوریا دے نے بتایا کہ جب ان کے وارڈ کی ایک نوجوان خاتون ٹمپا مویشال کل بارہ بجے کے قریب بیمار ہوگئی تو اسے سب سے پہلے چنڈیتلہ دیہی اسپتال لے جایا گیا ۔ وہاں سے انہیں سریرام پور والس اسپتال منتقل کیا گیا ۔ والز ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز سے مریضوں کے داخلے کو لیکر جھگڑا ہوا۔ کونسلر نے کہا اسپتال میں ایک ایک شخص الگ الگ طریقے سےبات کررہے تھے۔ کوئی بھرتی کرنے کوتیار تھا تو کوئی مریض کو واپس لے جانے کو کہہ رہا تھا ۔ کوئی کہہ رہا تھا بیڈ نہیں ہے ۔ یہاں تک کے اسپتال کی پرچی (ٹکٹ ) کاٹنے میں بھی آنا کانی ٹال بہانہ کررہے تھے ۔ سوریا دے نے کہا کہ انہوں نے اپنی شناخت کونسلر کے طور پر نہیں کی اور کہا کہ اس طرح کا سلوک عام لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔ تاہم بعد میں مریض کو داخل کر دیا گیا۔ چنانچہ کونسلر نے ا اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ یا کسی اور سے شکایت نہیں کی ۔ ادھر اس معاملے میں ہگلی کے ضلع چیف ہیلتھ آفیسر رما بھوئیاں نے کہا کہ جو کچھ ہوا اسے دیکھ کر ضروری اقدامات کئے جائیں گے ۔ وہیں اس معاملے میں سیرام پور کے ایم ایل اے ڈاکٹر سدیپتا رائے خود بھی آئی ایم سے وابستہ ڈاکٹر ہیں ۔ وہ کبھی سریرام پور والز اسپتال پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ “سرکاری ہسپتال مفت علاج فراہم کرتے ہیں ۔ اس لئے مریضوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے جس وجہ سے دباؤ زیادہ رہتا ہے ۔ لوگوں کو علاج کے لئے آتے وقت صبر سے کام لینا پڑتا ہے ۔ ہیلتھ ورکرز کو بھی پریشان پرجوش نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کاؤنسلر کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکمران کے مخالف کی بات نہیں ہے ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے اپنے لوگوں کے ساتھ سلوک بہتر ہو۔