راجوری قصبہ میں ایک گھر میں چھاپے کے دوران منشیات، موبائل فون سمیت کئی اشیا برآمد

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -30  MAY      

جموں، 30 مئی: جموں و کشمیر کے سرحدی راجوری میں پولیس نے راجوری قصبہ میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران اکتیس موبائل فون، 1.16 لاکھ روپے سے زیادہ کی نقدی، دو الیکٹرانک وزنی مشینیں، گیارہ گرام ہیروئن جیسی مادہ اور دیگر مشتبہ مواد برآمد کیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر مدثر حسین کی سربراہی میں پولیس کی ایک ٹیم نے راجوری قصبہ کے نبن محلہ کے قریب وارڈ نمبر دس میں واقع ایک مکان پر ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی موجودگی میں چھاپہ مارا گیا۔ پولیس نے مزید بتایا کہ چھاپہ راجوری کے وارڈ نمبر دس کے رہائشی عزیز احمد عرف سونو چینی نامی شخص کے گھر پر مارا گیا۔ گھر کی تلاشی کے دوران 11 گرام ہیروئن ، 1,16,130 روپے نقدی، 31 موبائل فونز، دو الیکٹرانک وزن کرنے کی مشینیں، تین کیمرے، تین موٹریں، چار ایمپلیفائر، ایک انورٹر، ایک اسٹیبلائزر اور ایک اسپیکر برآمد کیا گیا۔
مذکورہ شخص کے خلاف قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر 247/2023 یو/ایس 8/21/22/27۔اے ،این ڈی پی ایس اے ایکٹ کے تحت پولیس اسٹیشن راجوری میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ املاک کا کچھ حصہ چوری ہونے کا شبہ ہے تاہم موبائل فون کا صحیح استعمال تفتیش کے دوران واضح ہو جائے گا۔
پولیس کے مطابق گرفتار شخص راجوری قصبہ میں منشیات کی فروخت میں ملوث تھا اور نوجوانوں کو نشے کی طرف راغب کر رہا تھا۔ایس ایس پی راجوری امرت پال سنگھ نے کہا کہ گھر میں والدین کی نگرانی نوجوان نسل کو منشیات اور نشہ آور اشیا کے جال میں پھنسنے سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدام کی پہلی لیکن سب سے طاقتور شکل ہے۔ والدین اور سرپرستوں سے اپیل کرتے ہوئے کہ وہ اپنے بچوں کو اس لعنت سے بچانے میں اپنی ذمہ داری کو نبھائیں۔
ایس ایس پی نے کہا کہ نوجوانوں میں نشے کے مزید پھیلاؤ کو روکنے میں والدین اور سرپرستوں کا سب سے اہم کردار ہے۔ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے راجوری پولیس کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اْنہوں نے کہا کہ منشیات سپلائر کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رہے گی۔