TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –31 MAY
اسلام آباد،31مئی: سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا امکان ہے اوراگر انہیں مجرم قراردیا گیا تو انہیں دس سال تک کی قید ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں کور کمانڈر کی میٹنگ ہوئی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جنہوں نے فوجی تنصیبات کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد نقصان پہنچایا انہیں بخشا نہیں جائیگا ۔ حکومت کا دعوی ہے کہ عمران خان اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد ،فواد چودھری اور دوسرے رہنماشامل ہیں نے مظاہرین کو لاہور میں فوج کے صدر دفتر میں حملہ کرنے کی ترغیب دی ۔ یہ بھی بتا یا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اپنے پارٹی ورکروں کو صاف طور پر یہ ہدایت دی تھی کہ اگر انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ فوجی املاک کو نشانہ بنائیں گے۔ اور اس وجہ سے نہ صرف صوبے پنجاب اور خیبرپختونحواہ میں بھی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا یا گیا ۔ پی ٹی آئی کے ورکروں نے کرنل شیر خان کے مجسمے کو بھی توڑدیا ۔ اور اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فوج کے خلاف حملے کے گئے۔ کرنل شیر خان کو پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشانہ حیدرملا ہے اور انہیں قومی ہیرو کے طو رپر جانا جاتا ہے۔ فوجی کی اعلی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس ادارے کے خلاف نفرت پھیلانے والوںاور فوجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے نرمی نہیں کی جائے گی ۔ حال ہی میں شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ وہ ان تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی جنہوں نے سرکاری عمارت اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا یا ۔ جن لوگوں نے فوج کے املاک کونقصان پہنچا یا انکا مقدمہ فوجی عدالتیں سنیں گی ۔ ا س سلسلے میں تحریک انصاف پارٹی کے 33حامیو ںکو فوج کے حوالے کیا گیا ان کے خلاف یہ الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر لاہور میں فوجی صدر دفترپر حملہ کیا جو جناح ہائوس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وزیرداخلہ ر انا ثناء اللہ نے کہا کہ فوج پر حملوں کا پلان عمران خان نے ہی بنا یا ہے اور ا سلئے ان کے خلاف بھی فوجی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہئے۔ لیکن وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ فوجی عدالت کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کیا جا سکتا ہے۔