TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -10 JUNE
واشنگٹن،10جون: وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایک امریکی انٹیلی جنس تحقیق کے مطابق ایران روس کو ماسکو کے مشرق میں ڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ کی تعمیر کے لیے مواد فراہم کر رہا ہے کیونکہ کریملن کو یوکرین پر اپنے جاری حملے کے لیے ہتھیاروں کی مسلسل سپلائی میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ روس کے الابوگا سپیشل اکنامک زون میں ایک پلانٹ اگلے سال کے شروع میں کام کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ماسکو سے کئی سو میل مشرق میں اس صنعتی مقام کی اپریل میں لی گئی سیٹلائٹ تصویر بھی جاری کی جہاں اس کا خیال ہے کہ پلانٹ شاید تعمیر کیا جائے گا۔صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے دسمبر میں عوامی طور پر کہا تھا کہ اس کا خیال ہے کہ تہران اور ماسکو یوکرین جنگ کے لیے روس میں ڈرون کو اسمبل کرنے کی سہولت قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ نئی انٹیلی جنس سے پتہ چلتا ہے کہ تاتارستان کے الابوگا علاقے میں یہ منصوبہ تصور سے آگے بڑھ گیا ہے۔واضح رہے ایران کا موقف ہے کہ اس نے یوکرین جنگ شروع ہونے سے قبل روس کو ڈرون فراہم کیے تھے لیکن اس کے بعد سے نہیں۔جان کربی نے مزید کہا کہ امریکی حکام نے یہ بھی طے کیا ہے کہ ایران روسی فوج کو ایران میں بنائے گئے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈرونز کو بحیرہ کیسپین کے راستے ایران کے امیر آباد سے روس کے شہر ماخچکالا تک بھیجا جاتا ہے اور پھر روسی افواج اسے یوکرین کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔وائٹ ہاؤس کے مطابق مئی تک روس کو ایران سے سینکڑوں یک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرون کے ساتھ ساتھ ڈرون کی تیاری سے متعلق سامان بھی ہوصول ہوا ہے۔جان کربی نے کہا کہ یہ ایک مکمل دفاعی شراکت داری ہے جو یوکرین، ایران کے پڑوسیوں اور عالمی برادری کے لیے نقصان دہ ہے، ہم ان سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے اور ان میں خلل ڈالنے کے لیے اپنے اختیار میں موجود تمام ٹولز کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے ہم عوام کے ساتھ اشتراک کرنے کے علاوہ مزید کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔جان کربی نے کہا کہ جمعہ کو ڈیموکریٹک انتظامیہ ایک نئی ایڈوائزری کا اعلان کرے گی جس کا مقصد کاروباری اداروں اور دیگر حکومتوں کی مدد کرنا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ نادانستہ طور پر ایران کے ڈرون پروگرام میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ واضح رہے امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ نے حالیہ مہینوں میں روس اور ایران کو ڈرون کے پرزہ جات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین جاری کیے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے پاس بھی ایسے ہتھیار ہیں جو روس سے سپلائی ہو رہے ہیں۔ ایران روس سے حملہ آور ہیلی کاپٹر، ریڈار اور YAK-130 جنگی تربیتی طیارے اور دیگر فوجی سامان خریدنے کی کوشش کر رہا ہے۔