TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -11 JUNE
بھٹکل، 11 جون:ریاست کی سابقہ بی جے پی حکومت نے گئوکشی پرپابندی عائد کرنیوالا قانون منظورکرکے غریب کسانوں اورزراعت کرنے والوں کیلئے کتنی مشکلوں اور پریشانیوں میں مبتلا کردیا ہے اس کیلئے بھٹکل سے قریب 350 کلو میٹر دوراورکرناٹک کے دارالحکومت بینگلورسے قریب 120 کلو میٹر دورضلع ٹمکورکیتُرُوے کیرے میں پیش آنے والا یہ واقعہ تازہ مثال ہے۔رپورٹ کے مطابق تُروے کیرے تعلقہ کے جوڑگٹے میں ہراتوارکو جانوروں کا بازار لگتاہے۔ جہاں ایک طرف دیہاتوں سے لوگ اپنے جانور بیچتے ہیں توکئی دیہاتوں کے لوگ جانوروں کو خریدنے کے لئے بھی پہنچتے ہیں،4جون بروز اتوار کوہاویری کے کچھ کسان اس بازار سے جانوروں کو خرید کر واپس ہاویری جارہے تھے کہ اس دوران غنڈوں نے ان پر حملہ کردیا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اُن غنڈوں نے اپنے آپ کو گئورکھشنک اوربجرنگ دل کے ارکان بتایا۔ غنڈوں کا کہنا تھا کہ یہ لوگ جانوروں کوقصائی خانے بیچنے کے لئے لے جارہے ہیں، جبکہ کسانوں نے بہت منت سماجت کی کہ وہ کسان ہیں اور کھیتی باڑی کے لئے جانوروں کو لے جایا جارہا ہے، کافی منت سماجت کے بعد غنڈوں نے پچاس ہزار روپیوں کامطالبہ کرنا شروع کردیا اور کہا کہ وہ رقم دینے کی شرط پر اُنہیں چھوڑ سکتے ہیں، اگر رقم نہیں دی گئی تو پھروہ پولس میں ان کے خلاف شکایت درج کریں گے اور قصائی خانہ لے جانے کا الزام عائد کرکے کسانوں کو اندر کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق کسانوں نے کہا کہ اُن کیپاس اتنی بڑی رقم نہیں ہے۔ جب کسانوں نے رقم نہیں دی تو بجرنگیوں نے پولس کو فون کرکے اُنہیں جائے وقوع پر بلایا اور پل بھرمیں تُرُوے کیرے پولس تھانہ کی جیپ جائے وقوع پر پہنچ گئی۔