TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -14 JUNE
اسلام آباد ،14جون:اسلام آباد پولیس نے بیرون ملک مقیم اینکرپرسن صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کے خلاف 9 مئی کو پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کے لیے ’بغاوت کو ہوا دینے‘ اور لوگوں کو اکسانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔پاکستان کے کئی صحافیو ںکو اور یوٹیوبرکو نو مئی کو پرتشد دہجوم کوفوجی تنصیبات اور سرکاری املاک پر حملے کرنے کے اکسانے کے الزام میں گرفتا رکیا گیا ہے۔ ان کے خلاف پولیس میں ایک رپورٹ درج کی گئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ ویڈیو میسج کے ذریعہ ان تشددآمیز واقعات کو دیکھا رہے تھے ۔ ان صحافیوں میں شاہین سہبائی اور وجاہت سعید خان کے علاوہ یوٹیوٹر عادل راجہ اور اینکر پرسن سعید حیدر رضا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نامور صحافی عمران ریاض کو بھی نو مئی کے واقعات کے بعد پولیس نے اٹھا یا او رابھی تک ان کے بارے میں کوئی بھی خبر نہیں ہے۔ عمران ریاض عمر ان خان حامی رپوٹر ہیں۔ اور اس کے ساتھ سمیع ابراہیم جو کہ بول ٹی وی سے تعلق رکھتے کو بھی گرفتار کیا گیا ان کے بارے میں بتا یا گیا کہ مئی میںا ن کے گھر پر دس وردی پوش آئے اور انہیں وہاں سے اٹھا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ صحافی لوگوںکو فوجی املاک پر حملہ کرنے کی ترغیب دے رہے تھے یہ ایک سنگین مسئلے ہے اور دہشت گردی کے دفعہ میں آتا ہے اور ا س سے ملک میں بدامنی پھیلنے کا اندیشہ تھا ۔ شکایت کنندہ محمد اسلم نے کہا کہ وہ دانستہ طور پر ان حرکتوں میں ملوث تھے اور کہا کہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب عمران خان کو 9مئی کو قومی احتساب کمیشن کے باہر گرفتار کیا گیا تو اس کے فوراً بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوئے جس سے نہ صرف املاک کو نقصان پہنچا یا گیا بلکہ سیکورٹی اہلکارو ںکو بھی نشانہ بنا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ فوج نے کہا کہ جن لوگوں نے اس کے املاک کو نقصان پہنچا یا ہے ان کو فوجی عدالت کے تحت مقدمہ چلا یا جا ئے گا جب کہ دوسرے لوگوںکو عام عدالتوں میں کارروائی کی جائے گی ۔ اب تک دس ہزار سے زیادہ لوگوںکو گرفتار کیا گیا اور ابھی بہت سارے لوگوںکی شناخت باقی ہے۔ ابھی یہ صاف نہیں ہوا ہے کہ ان صحافیوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمہ چلا یا جائے گا یافوجی عدالت میں ۔ صحافیوں کی گرفتاری پر مختلف انسانی حقو ق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا اور حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ ان کے خلاف غیر جانبدانہ طریقے سے تحقیقات کرے۔ مقدمہ صاف اور شفاف طریقے سے چلنا چاہئے تا کہ حقیقت سامنے آجائے۔ پولیس نے 20 نامعلوم مشتعل افراد جن میں محمد صابر شاکر، معید حسن پیرزادہ اور سید اکبر حسین بھی شامل ہیں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہو ںنے اپنے ویڈیو پیغامات، ٹوئٹر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو یہ سب کرنے پر اکسایا۔