TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -14 JUNE
پٹنہ (پریس ریلیز):رمز عظیم آبادی کا شمار ان باکمال شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ شاعرانہ قدرت اور خداداد صلاحیت کے بل بوتے پر صف اول کے شعراء میں اپنی جگہ مخصوص کرلی اور پورے ملک میں بہار کی شاعرانہ عظمت کا سکہ جما دیا۔ رمز انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ رمز نے پوری زندگی غربت اور عسرت دیکھی۔ ان کی زندگی کی راہ میں دھوپ ہی دھوپ تھی۔ سائے بہت کم آئے۔ رسمی درس وتدریس سے انہیں برائے نام واسطہ رہا لیکن ان کا ذاتی مطالعہ اتنا وسیع اورگہرا اور زبان وبیان پر انہیں اتنی مہارت اور قدرت حاصل تھی کہ ان کی شاعری دانشورانہ فکر وفن کا امتزاج بن گئی ہے۔ رمز غزل اورنظم دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے مگر نظم نگاری میں انہیں جو مہارت اورامتیازی شان حاصل تھی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ رمز کے کلام میں زندگی کی سچائی اور مٹی کی خوشبو ہے۔ ان کا لب ولہجہ نیا، فکرمنفرد مگر شاعری روایت کے احترام کے ساتھ دلکشی اور دل پذیری کا بھرپور عکاس ہے۔ ان کا شعری سرمایہ بے حد وقیع اور عظیم ہے۔ بہار کی تاریخ سخن میں رمز کا نام نہایت روشن اورقابل احترام ہے۔ یہ باتیں محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیراہتمام بہار اسٹیٹ آرکائیو ڈائرکٹوریٹ (ابھیلیکھ بھون)، نہرو پتھ، بیلی روڈ، پٹنہ کے احاطہ میں واقع کانفرنس ہال میں منعقد رمز عظیم آبادی یادگاری تقریب میں مقالہ خواں ڈاکٹر عمر غزالی، صدر وایسوسی ایٹ پروفیسر، پوسٹ گریجویٹ ریسرچ ڈپارٹمنٹ آف اردو ہگلی محسن کالج، ہگلی، کولکاتہ، زبیر احمد، مشہور ومعروف ادیب، پٹنہ اور پروفیسر قاسم فریدی، سابق صدر شعبہ اردو، سچیدانند سنہا کالج، اورنگ آباد، بہار نے اپنے مقالے میں مشترکہ طورپرکہیں۔ تقریب کاآغاز اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر احمدمحمود اور اسٹیج کے دیگر شعراء کے ہاتھوں شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔ ڈائرکٹراحمد محمود نے تمام مہمانوں،محبان اردو، اسکول وکالج کے طلباوطالبات اور پریس کے نمائندگان کا استقبال کرتے ہوئے تہہ دل سے ان کا شکریہ ادا کیا۔
ڈائرکٹر موصوف نے پروگرام کی غرض وغایت پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیراہتمام سال میں 22یادگاری تقریبات کا انعقاد عمل میں آتا ہے۔ ان تقریبات کا مقصد اسلاف کے کارناموں اور ان کی گرانقدر ادبی خدمات سے موجودہ اورآئندہ نسل کو واقف کرانا ہے۔ اردو ڈائرکٹوریٹ کے اہم منصوبوں میں اردو مسودہ اشاعتی امداد، آن لائن اردو لرننگ کورس، ریاست بہار کے ہر ضلع میں مامور اردو عملہ کی صلاحیت سازی، ان کے پروموشن اوران کے مسائل کے حل کے لئے عمل گاہ،ملک اوربیرون ملک میں اردو زبان و ادب کے حوالے سے اپنی شناخت قائم کرنے والاسہ ماہی مجلہ ”بھاشا سنگم“ کی اشاعت شامل ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نے کہا کہ کورونا بحران اور کچھ دوسری پریشانیوں کی وجہ سے جشن اردو کا پروگرام اب تک نہیں ہوسکا تھا لیکن جولائی یااگست کے مہینہ میں جشن اردو کا پروگرام منعقد کرنے کی تیاری چل رہی ہے۔ ڈائرکٹر موصوف نے رمز عظیم آبادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رمز عظیم آبادی نے بہت تنگی اور عسرت میں اپنی زندگی گذاری لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔ان کی باضابطہ تعلیم نہیں ہوئی تھی لیکن اپنی خداداد صلاحیت کی بنیادپر دنیائے اردو ادب میں انہوں نے اپنا سکہ جمایا۔ ان کامطالعہ کافی وسیع اورگہرا تھا۔ وہ عظیم آباد کے کوہ نور اور ہیرا تھے۔ انہوں نے ملکی اوربین الاقوامی سطح پر ریاست بہار کا نام روشن کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے تلخ تجربہ کو اپنی شاعری میں پیرو دیا۔ انہوں نے بلند پایہ شاعر اور نظم نگار کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی۔
رمز عظیم آبادی یادگاری تقریب کی صدارت مشتاق احمد نوری، معروف ادیب و سابق سکریٹری بہار اردو اکادمی، پٹنہ نے کی۔ انہوں نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے پڑھے گئے تینوں مقالوں پر جامع تبصرہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ رمز عظیم آبادی اپنی نظم کی بدولت پہچانے گئے۔ وہ نظم کے بہترین شاعر تھے۔ رمز نے زندگی گذاری نہیں بلکہ زندگی کو جھیلا ہے۔ وہ وہبی شاعر تھے۔ ان کی ذہنی پرورش نوابوں کے یہاں ہوئی۔ وہ کتاب کے شوقین تھے۔ رمز کا مزاج آزاد تھا۔ کسی بندش کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے چہرے سے مایوسی نہیں بلکہ خودداری کااظہارہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ چٹان کی طرح ثابت قدم رہے۔ رمز کے سبھی اشعار بلند معیار کے ہیں۔
رمز عظیم آبادی یادگاری تقریب میں اردو ڈائرکٹوریٹ کے زیراہتمام اردو زبان و ادب کی پانچ اہم شخصیات کے فرد ناموں اور”کلیات رمز عظیم آبادی“ کا رسم اجراء عمل میں آیا۔ ”کلیات رمز عظیم آبادی“ امتیاز احمد کریمی، معزز رکن بی پی ایس سی وسابق ڈائرکٹر، اردو ڈائرکٹوریٹ، پٹنہ نے ترتیب دی ہے۔ ”غلام سرور“ پر فرد نامہ پروفیسر احسان اشرف، سابق یونیورسٹی پروفیسر وصدر شعبہ فلسفہ، کالج آف کامرس آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ نے، ”شکیلہ اختر“ پر فردنامہ پروفیسر قمرجہاں، سابق ڈین وصدر شعبہ اردو، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، بھاگلپور نے، ”راسخ عظیم آبادی“ پر پروفیسر رئیس انور، سابق پروفیسر، شعبہ اردو، للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ نے،”رشید النساء“ پر فردنامہ ڈاکٹر نورالسلام ندوی، مشہور و معروف ادیب، پٹنہ اور ”پیغام آفاقی“ پر فردنامہ ڈاکٹر سلمان عبدالصمد، اسسٹنٹ پروفیسر،بی بی ر ضا کالج، خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی، گلبرگہ، کرناٹک نے لکھے اور فردناموں کے مصنفین نے یادگاری تقریب کے شرکاء سے اظہار خیال بھی کیا۔
خصوصی مدعو کے طور پر پروگرام میں شامل امتیاز احمد کریمی نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے شعراء و ادباء کی قدردانی اوران کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں رونا نہیں چاہئے بلکہ امید کا ہتھیار لے کر آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ اس سے پورے بہار کے لوگوں میں اردو زبان کے تعلق سے جوش وجذبہ باقی رہے گا۔موصوف نے کہا کہ اگر دل میں تمنا ہو تو غریبی پڑھنے پڑھانے کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے۔ جیسے کہ رمز نے غربت اور افلاس کے باوجود پوری محنت اورلگن کے ساتھ دنیائے اردو ادب میں اپنا نام روشن کیا۔ غریبی کی وجہ سے انہوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔ رمز عظیم آبادی کی زندگی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے۔ اردو کے فروغ کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسرے اجلاس بزم سخن کی صدارت اسد رضوی، معروف شاعر مظفرپور نے کی۔ بزم سخن میں جن شعراء کرام نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ان میں منور داناپوری، پٹنہ، محترمہ شبانہ عشرت، پٹنہ، میرسجاد، پٹنہ، فردوس گیاوی،گیا، محترمہ رشمی گپتا، پٹنہ، عرفان بیلہاڑوی،پٹنہ،اویناش امن، پٹنہ، احمد شاذ قادری، پٹنہ، اور گلفام صدیقی اورنگ آبادی شامل تھے۔ رمز عظیم آبادی یادگاری تقریب کے خاص موقع پر ان کی اہلیہ، دختر اورنواسی کی ڈائرکٹر موصوف اور اسٹیج پر موجود سبھی مہمانوں کے ہاتھوں شال پوشی کر کے عزت افزائی کی گئی۔
رمز عظیم آبادی یادگاری تقریب کی نظامت حسیب الرحمن انصاری نے جبکہ بزم سخن کی نظامت شکیب ایاز نے کی۔تقریب اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹراحمد محمودکے تشکراتی کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔