TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -14 JUNE
نئی دہلی،14جون : پاکستانی کپتان بابر اعظم ایک بار پھر چرچا میں ہیں۔ انہوں نے 6 ماہ سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ اس کے باوجود ایک خاص کامیابی حاصل کی ہے۔ درحقیقت ان کا ٹیسٹ اوسط اس وقت سب سے زیادہ ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے آخری ٹیسٹ جنوری میں نیوزی لینڈ کیخلاف کھیلا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے جو روٹ، وراٹ کوہلی جیسے تجربہ کاروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 20 سے زائد اننگز کھیلنے کے بعد بابر اعظم کی اوسط 69.10 ہے۔ اس دوران انہوں نے 4 سنچریاں اور 8 نصف سنچریاں اسکور کیں۔جبکہ اسمتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ آسٹریلیا کے تجربہ کار کرکٹر اسمتھ کی اوسط 30 اننگز کے بعد 55 کے آس پاس کا ہے۔ اس دوران انہوں نے 4 سنچریاں اور 6 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔ انگلینڈ کے جو روٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔ جن کا ٹیسٹ اوسط 34 ٹیسٹوں کے بعد 54.20 کا ہے۔ اس دوران روٹ نے چھ سنچریاں اور چھ نصف سنچریاں اسکور کیں۔ روٹ نے ٹیسٹ کرکٹ میں 11000 سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ اب تک وہ کل 29 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ روٹ کی ٹیسٹ میں مجموعی اوسط 50 کا ہے۔ سری لنکن بلے باز اینجلو میتھیوز چوتھے نمبر پر ہیں۔ جن کی آخری 16 اننگز میں اوسط 48 کا ہے۔ مجموعی طور پر 16 اننگز میں وہ اب تک 2 نصف سنچریاں اور 2 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ اینجلو میتھیوز اپنے ٹیسٹ کیریئر میں اب تک 7000 سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں۔ ان کے نام کل 15 سنچریاں ہیں۔ میتھیوز کا سب سے زیادہ اسکور 200 ناٹ آؤٹ کا ہے۔ پانچویں نمبر پر وراٹ کوہلی ہیں جنہوں نے گزشتہ 27 ٹیسٹ میں 34 کی اوسط سے بیٹنگ کی ہے۔ اس دوران ان کے بلے سے 3 نصف سنچریاں اور صرف ایک سنچری آئی ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں بھی ان کا بلے نے زیادہ کام نہیں کیا۔ وہ پہلی اننگز میں مکمل طور پر فلاپ ہو گئے۔ لیکن دوسرے میں وہ 49 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ تاہم میچ نہ جیت سکے۔