پاکستان کو اس وقت غذائیت کے شدید بحران کا سامنا :اقوام متحدہ

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -15 JUNE

اقوام متحدہ ،15جون: اقوام متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی شراکت داروں کی جانب سے تیار کردہ ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کو تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود پاکستان کو اس وقت غذائیت کے شدید بحران کا سامنا ہے، جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہلے سے موجود غذائی قلت کی بلند شرح کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے کوآرڈینیشن آف ہیومینٹیرین اسسٹنس کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک بات چھوٹے بچوں میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت ہے کیونکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں ہونے والی تمام اموات میں سے تقریباً نصف کی وجہ غذائیت کی کمی ہے، رپورٹ کے مطابق حیران کن طور پر پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر پانچ میں سے ایک بچہ موت کے خطرے سے دوچار ہے جہاں شدید اور اعتدال پسند شدید غذائیت کی شرح بالترتیب 8 فیصد اور 9.7 فیصد ہے۔2022 کی مون سون بارشوں کے نتیجے میں ا?نے والے سیلاب سے متاثرہ 84 اضلاع پریشان کن غذائی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں، ان اضلاع میں اوسط شدید شدید غذائی قلت کی شرح 12 فیصد ہے جو 35 لاکھ سے زائد بچوں کو متاثر کرتی ہے، ان میں سے ساڑھے 14 لاکھ سے زیادہ بچوں کو ریڈی ٹو یوز تھیراپیوٹک فوڈ سے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔زچگی کی ناقص غذائیت، ناکافی صفائی اور حفظان صحت، بہترین دیکھ بھال اور کھانے کے طریقے اور ضروری غذائی سروسز اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک محدود رسائی سمیت کئی عوامل شدید غذائی قلت میں کا سبب بنتے ہیں۔5 جون 2023 تک انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کی درجہ بندی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کے کمزور صوبوں کے 43 اضلاع کے تقریباً ایک کروڑ 5 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔یہ علاقے بشمول بلوچستان (18 اضلاع)، خیبرپختونخوا (نو اضلاع) اور سندھ (16 اضلاع) گزشتہ سال مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے شدید متاثر ہوئے جس نے خوراک کی پیداوار، کھپت، معاش اور روزگار کے مواقع کو بہت متاثر کیا۔