TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -15 JUNE
ایتھنز،15جون: مچھلیاں پکڑنے والی ایک کشتی ، جس پر بڑی تعداد میں تارکین وطن سوار تھے، بدھ کے روز یونان کے ساحل کے قریب الٹ کر ڈوبنے سے کم از کم 79 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں تارکین وطن کی ہلاکت کا یہ اس سال کا بدترین واقعہ ہے۔لاپتہ ہونے والوں کو سمندر میں تلاش کیا جا رہا ہے جس میں یونانی کوسٹ گارڈ کے چھ جہاز، بحریہ کا ایک فریگیٹ، ایک ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ، فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر، کئی نجی جہاز اور فرنٹیکس کا ایک ڈرون حصہ لے رہے ہیں۔حکام نے بتایا ہے کہ یہ حادثہ یونان کے جنوبی جزیرہ نما پیلوپونیس سے تقریباً 75 کلومیٹر دور بحیرہ روم کے بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا۔ کشتی ڈوبنے کے بعد سے اب تک 104 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اب تک کتنے لوگ پانی میں ہیں یا ڈوبنے والی کشتی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کشتی پر ممکنہ طور پر کئی سو افراد سوار تھے۔کشتی کے حادثے میں ابتدائی طور پر 104 افراد کو بچا کر یونان کے ساحلی قصبے کالاماٹا کے ایک گودام میں قائم کردہ عارضی پناہ گاہ میں پہنچایا گیا جہاں وہ سو رہے ہیں۔ کشتی کے حادثے میں ابتدائی طور پر 104 افراد کو بچا کر یونان کے ساحلی قصبے کالاماٹا کے ایک گودام میں قائم کردہ عارضی پناہ گاہ میں پہنچایا گیا جہاں وہ سو رہے ہیں۔ یونان کے ساحلی محافظوں نے بتایا ہے کہ سمندر سے اب تک 79 نعشیں نکالی جا چکی ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں کو خشک کپڑے اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور انہیں اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کی قائم کردہ پناہ گاہوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈوبنے والی کشتی ممکنہ طور پر مشرقی لیبیا کے علاقے توبروک سے روانہ ہوئی تھی۔ لیبیا میں کئی برسوں سے جاری عدم استحکام کی وجہ سے اس کے ساحلی علاقے انسانی اسمگلروں کا گڑھ بن چکے ہیں جہاں سے لوگوں کو غیر قانونی طور پر کشتیوں کے ذریعے چوری چھپے یورپ بھیجا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے تارکین وطن سے متعلق ادارے آئی او ایم نے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ماہی گیری کی اس کشتی میں لگ بھگ 400 افراد سوار تھے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق کشتی پر سوار افراد کی تعداد 700 سے زیادہ تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ وہی کشتی تھی جو یونان کے قریب ڈوب گئی یا وہ کوئی اور کشتی تھی۔