! پبلک تو سب جانتی ہے

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -16 JUNE

جیسے جیسے 2024 کے لوک سبھا انتخابات قریب آرہے ہیں، سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک کے ماحول کو اپنے حق میں کرنے کی کوششیں تیز ہوتی جا رہی ہیں۔کچھ سیاسی جماعتیں بر سر اقتدار اتحاد (این ڈی اے) کے خلاف اپوزیشن کا متحدہ محاذ قائم کرکے ملک کے اقتدار کو اپنے حق میں کرنے کے لئے ماحول سازی کر رہی ہیں تو اس کے بر عکس بر سر اقتدار اہم جماعت بی جے پی کامن سول کوڈ یعنی یونیفارم سول کوڈ کی آڑمیں سماج کو منقسم کرنے کی کوشش میں مصروف ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا سے لیکر ملک کے چائے خانوں میںہونے والی بحثوں میں اب یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ بھی شامل ہو گیا ہے۔
  تین دن پہلے 14 جون کو ملک کے 22 ویں لاء کمیشن نے سیاسی طور پر اس حساس معاملے پر ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔ ایک بار پھر یکساں سول کوڈ پر عام لوگوں اور تسلیم شدہ مذہبی تنظیموں سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز کے خیالات طلب کئے ہیں ۔ اس معاملے میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور تنظیمیں 30 دنوں کے اندر لاء کمیشن کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرسکتی ہیں۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ  کمیشن کی ای میل یا آن لائن لنک کے ذریعے خیالات ارسال کئے جا سکتے ہیں۔
یونیفارم سول (یو سی سی) کی بحث شروع ہوتے ہی اس معاملے پر حمایت اور مخالفت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ وشو ہندو پریشد نے اس پہل کا استقبال کیا تو سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شفیق الرحمان بر ق نے کہا کہ اس سے ملک میں نفرت ہی پھیلے گی۔ برق کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات قریب ہیں۔ کچھ ریاستوں میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں۔  ان لوگوں (بی جے پی) کے پاس کوئی مدعا نہیں ہے۔ انہوں نےملک کو نفرت کی آگ میں جھونک دیا ہے۔
اد ھر یونیفارم سول کوڈ سے متعلق لاء کمیشن کے ذریعہ جاری نوٹس کو کو کافی اہم مانا جارہا ہے۔مذہبی منافرت پر مبنی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ  2024 کے عام انتخابات سے پہلے نریندر مودی حکومت کا ایک بڑا ایجنڈا ہے اور دوسری مدت کار میں اٹھائے گئے دو بڑے اقدامات یعنی جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے ساتھ اسے  تیسرے بڑے قدم کے طور دیکھا جا سکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ یونیفارم سول کوڈ سے مراد لوگوں کے ذاتی معاملات جیسے شادی، طلاق، گود لینے اور جانشینی جیسے مسائل کے لئے یکساں قانون ہے۔ اس وقت ان معاملات میں الگ الگ مذاہب کے ماننے والوں کے لئے الگ الگ قوانین نافذ ہیں۔ ان کو پرسنل لاز کہا جاتا ہے۔یونیفارم سول کوڈ کے ذریعہ سب کے لئے یکساں قوانین بنائے جانے کا تصور کیا جاتا رہا ہے۔واضح ہو کہ اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش جیسی بی جے پی کی حکمرانی والی کئی ریاستوں نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے امکانات کا مطالعہ کرنے کیلئے پہلے ہی اپنے یہاں کمیشن بنائے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی پچھلے کئی برسوں سے خاص طور پر اسمبلی انتخابات کے موقعوں پریو سی سی نافذ کرنے کا وعدہ کرتی رہی ہے۔
واضح ہو کہ لاء کمیشن نے اس سے پہلے 2018 میں بھی ایک مشاورتی پیپر جاری کیا تھا، جس میں عائلی قوانین میں اصلاحات کے بارے میں رائے طلب کی گئی تھی۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ریتو رائے اوستھی کی سربراہی میں تشکیل پذیر 22 ویں لا کمیشن نے یکساں سول کوڈ پر دوبارہ رائے حاصل کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا ہے کیونکہ آخری مشاورتی  پیپرتین سال سے زیادہ پہلے جاری کیا گیا تھا، جو اب پرانا ہو چکا ہے۔ لاء کمیشن کی جانب سے جاری عوامی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ  21 ویں لاء کمیشن نے 7 اکتوبر 2016 کو عوام اور اسٹیک ہولڈرز سے یکساں سول کوڈ پر تبصرے طلب کیے تھے۔ 19 مارچ 2018 اور 27 مارچ 2018 کو دوبارہ رائے طلب کی گئی۔ اس کے بعد 31 اگست 2018 کو لاء کمیشن نے فیملی لا میں اصلاحات کی سفارش کی۔ چونکہ آخری مشاورت کو تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایسے میں اس موضوع کی سنگینی اور عدالت کے احکامات کو دیکھتے ہوئے 22ویں لاء کمیشن نے اس موضوع پر  پھر سےرائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں اپنی رائے دینا چاہتے ہیں وہ 30 دن کے اندر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔  اس کے لیے دی گئی ای میل آئی ڈی یا لنک کے توسط سے  آئیڈیاز بھیجے جا سکتے ہیں۔  اگر ضروری ہو تو لا کمیشن کسی بھی شخص یا ادارے کو ذاتی سماعت کے لیے طلب کر سکتا ہے۔ 21 ویں لاء کمیشن کی مدت اگست 2018 میں ختم ہو گئی تھی۔ 22ویں لاء کمیشن کو حال ہی میں تین سال کی توسیع دی گئی ہے۔ وزارت قانون و انصاف کی طرف سے ایک خط بھیجے جانے کے بعد اس نے یکساں سول کوڈ سے متعلق مسائل کی جانچ شروع کر دی ہے۔ اب کچھ لوگ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ جس لاء کمیشن کی مدت اگست 2018 میں ختم ہو گئی تھی، اس کی توسیع کے لئے یہی وقت کیوں چنا گیا ، جب لوک سبھا انتخابات کے دنوں کی گنتی مہینوں میں سمٹ گئی ہے ۔ اس سوال کا جواب تو خود سوال پوچھنے والوں کو بھی معلوم ہے۔کیوں کہ یہ پبلک ہے اور پبلک تو سب جانتی ہے۔