ممبئی کے اسکول میں صبح کی پریئر میں بجی اذان، والدین کی مخالفت کے بعد ٹیچر ہوا معطل

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -17 JUNE

ممبئی، 17جون:ممبئی کے کاندیولی میں واقع کپول انٹرنیشنل اسکول میں اسکول کی پریئر کے دوران اذان بجنے کی وجہ سے ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ طلباء کے والدین اور بی جے پی کی ممبئی یونٹ نے بھی اسکول کے باہر احتجاج کیا۔ مقامی بی جے پی ایم ایل اے یوگیش ساگر بھی اسکول کے باہر پہنچے اور احتجاج کرنے والے والدین کے ساتھ شامل ہوگئے۔ اس معاملے میں پریئر کرانے والے استاد کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ یوگیش ساگر نے اسکول پر ٹیچر کو بچانے کا الزام لگایا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ٹیچر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ڈی سی پی اجے کمار بنسل نے کہا، ‘آج کاندیولی میں شکایت ملی کہ ایک اسکول میں صبح کی پریئر کے دوران ‘اذان’ بجائی گئی تھی۔ پولیس نے شکایت درج کر لی ہے اور تفتیش شروع کر دی ہے۔ معاملے کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی جائی گی۔ تمام ضروری کارروائی کی جائے گی۔ اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر ریشما ہیگڑے نے بتایا کہ اذان بجانے کے ذمہ دار ٹیچر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک ہندو اسکول ہے اور ہماری پریئر میں گایتری منتر اور سرسوتی وندنا شامل ہیں۔ ہم یقین دلانا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا واقعہ نہیں دہرایا جائے گا۔بی جے پی کی ممبئی یونٹ نے بھی اسکول کے باہر احتجاج کے بارے میں ٹویٹ کیا۔ ‘اذان’ پر تنازعہ کے بعد اسکول کے باہر احتجاج کے باعث تمام کلاسوں کو برخاست کردیا گیا۔ والدین کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ واقعے کے پیچھے استاد کے خلاف کارروائی کی جائے۔اسپیکر پر اذان بجانا مہاراشٹر میں پہلے سے ہی ایک سیاسی مسئلہ رہا ہے۔ مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے گزشتہ سال مہاراشٹر میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کے خلاف مہم شروع کی تھی۔ ایم این ایس سربراہ نے کہا تھا کہ اگر لاؤڈ اسپیکر نہیں ہٹائے گئے تو ان کی پارٹی کے کارکنان مساجد کے باہر ہنومان چالیسہ بجائیں گے۔