TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –20 JUNE
کاروار،20جون:نہ وائرس ہے اور نہ کوئی بیماری ہے۔ اس سال کی گرمی میں حد سے زیادہ اضافہ ہونیسے مرغی صنعت کاری کو کافی نقصان ہواہے۔ جس کینتیجیمیں انڈے اور گوشت کی قیمتیں دوگنی ہوجانے سے گاہک حیران ہیں۔موسم گرماکی حد سے زائد بڑھتی ہوئی حدت اور مانسون کی آمد میں دیری سے مرغیاں ہلاک ہورہی ہیں، اسی کا نتیجہ ہیکہ انڈوں میں بھاری کمی ہوئی ہے، حیدرآباد سے انڈے سپلائی ہوتیہیں اسی لئے ایک درجن انڈوں کی قیمت 80روپئے ہوگئی ہے۔ کورونا کے دوران بھی اتنی قیمت نہیں تھی۔ پچھلیایک دہے میں انڈوں کی قیمت میں اتنا اضافہ نہیں دیکھاگیا ہے اب انڈوں کی جو قیمت ہے اس سے گاہک حیرت زدہ ہیں۔جب مچھلی اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہوتاہے تو عوام کم قیمت پر دستیاب انڈوں کا رخ کرتیہیں۔ لیکن اب انڈوں کی قیمتوں میں بھی حدسے زیادہ اضافہ کو دیکھتے ہوئے عوام انڈوں کیقریب بھی نہیں جارہے ہیں۔ دو دن پہلے ایک درجن انڈوں کی قیمت 70روپئے کے آس پاس تھی اتوار سے 80روپئے ہوگئی ہے۔ریاست میں انڈے والی مرغی یعنی لئیر مرغیوں کی پرورش میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ لئیر مرغی کو 18مہینے پرورش کرنے کے بعد 1.5 کلوگوشت ملتاہے۔ اس کے بجائے انڈوں کیلئے مرغیوں کا پالن کریں تو گوشت کی شرح میں کمی ہوجاتی ہے۔ اس دوران کوئی بیماری، وائرس آگیا تو ہلاک ہوجاتی ہیں جس کینتیجیمیں کافی نقصان ہوتاہے۔ اسی وجہ سے لئیر مرغیوں کی صنعت کاری چھوڑکر زیادہ تر گوشت والی مرغیوں (بائلر مرغیوں) کی صنعت کاری کی جارہی ہے۔ کیونکہ بائلر مرغی میں صرف ایک مہینیمیں ہی دو کلو کا گوشت دیتی ہے، یہی وجہ بھی ہیکہ بائلر مرغیوں کی مانگ زیادہ ہے۔ لئیر مرغیوں کی صنعت کاری میں کمی ہونے سے ہی انڈوں کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہواہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر تازہ مچھلیاں نہیں ملنے کی وجہ سے انڈوں کی قیمت میں اضافہ دیکھا جارہاہے۔بائلر مرغیوں کی صنعت کاری منافع بخش ہونیکی وجہ سے لئیر مرغیوں کی صنعت کاری کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہاہیاسی وجہ سیلئیر مرغیوں کی صنعت کاری میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ 350روپئے کی قیمت پر 100 انڈے ملتے تھے اب قیمت میں اضافہ ہوکر 100انڈوں کیلئے550روپئے ادا کرنے پڑر ہے ہیں۔ گرمی میں اضافہ، اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور مرغی صنعت کار بائلر مرغیوں کا رخ کئیجانے سے انڈوں کی قیمت میں اچانک اضافہ ہواہے۔ زیادہ گرمی ہونیکی وجہ سے لئیر مرغیاں بیماری کا شکار ہورہی ہیں تو دوسری طرف مرغیوں کی پرورش کیلئے دئیے جانیوالی غذاؤں کی قیمت میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہواہے اور پانی کی قلت سے بھی مرغیوں کی پیدائش کم ہورہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انڈوں کی قیمت میں اضافہ ہورہاہے۔کاروار اور گوا کو حیدرآباد سے انڈے سپلائی کئے جانے سے انڈوں کی قیمت میں اضافہ ہواہے۔ ضلع بھر میں حیدرآباد سے ہی انڈے سپلائی کئیجارہیہیں تو سپلائی کا فاصلہ بہت دور کا ہے تو سپلائی کیلئے بھی زیادہ خرچ ہوتاہے اسی وجہ سے انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ضلع میں چکن اور انڈوں کی قیمت: کاروار، ہلیال، سداپور، منڈگوڈ، یلاپور، کمٹہ سرسی میں ایک درجن انڈوں کی قیمت 80روپئیہے تو انکولہ اور ڈانڈیلی میں 78روپئے اور سب سے کم بھٹکل میں ایک درجن انڈوں کی قیمت 70روپئے ہے۔ اسی طرح سرسی میں ایک کلو چکن کی قیمت 310روپئے، ڈانڈیلی میں 300روپئے، کاروار، سداپور، منڈگوڈ، یلاپور میں 280روپئے، بھٹکل میں 258روپئے، ہلیال اور انکولہ میں 250روپئے ہے تو کمٹہ میں 235 روپئے پر ایک کلو چکن ملتاہے۔میں نے اپنی فولٹری فارم بند کی ہے: ضلع بھر میں کئی ایک مرغی صنعت کار لئیر مرغیوں کی پرورش بند کرتیہوئے منافع کی خاطر بائلر مرغیوں کی طرف رخ کئے ہوئیہیں۔ اسی لئیمیں نے بھی اپنی 40ہزار روپئے لاگت کی فولٹری فارم بند کر دیا ہوں۔ ریاست میں لئیر مرغیوں کی پرورش میں کمی ہونے کی وجہ سے انڈے نہیں مل رہیہیں۔ اسی لئے حیدرآباد سے منگواکر انڈے سپلائی کرنے کی کاروار کے مرغی صنعت کار دگمبر نائک نے جانکاری دی۔