تین لاپتہ نابالغ بچوں کی نعشیں 30 گھنٹے بعد بند کار سے برآمد

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –20 JUNE

ناگپور،20جون:مہاراشٹرا کے ناگپور میں تین لاپتہ نابالغ بچوّں کی نعشیں ایک بند کار سے برآمد ہونے کے بعد عوام دنگ رہ گئے۔ بتایا گیا ہے یہ بچے 30 گھنٹوں سے لاپتہ تھے اور اغوا کا شبہ ظاہر کیا جارہا تھا مگر فاروق نگر کے علاقے میں ان کے گھر کے قریب ہی پائی گئی ایک لاوارث ایس یو وی کار سے ان کی نعشیں برآمد ہوئیں۔بچوں کی شناخت 6 سالہ آفرین خان، اس کے کزن 6 سالہ عالیہ خان اور 4 سالہ توفیق خان کے طور پر ہوئی ہے جو ہفتے کی دوپہر کو کھانے کے بعد اپنے گھر کے باہر کھیلنے گئے تھے۔سمجھا جارہا ہے کہ جیسے ہی وہ آس پاس میں کھیل رہے تھے، قریب پارک کی گئی ایک فورڈ ایکو اسپورٹ ایس یو وی تک پہنچے اور کھیلنے کے لیے اس میں داخل ہوئے، لیکن کسی طرح پراسرار طور پر گاڑی میں بند ہو گئے۔تقریباً 30 گھنٹے کے بعد ہی ایک مقامی خاتون نے وہاں سے بدبو آنے کی شکایت کی اور مقامی لوگ اور پولیس کی ٹیمیں ایس یو وی کو چیک کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئیں۔کار کے اندر تینوں بچوں کی لاشوں کو ایک دوسرے کے اوپر دیکھ کر کانپ گئے، گاڑی کی دھول بھری ونڈشیلڈوں پر انگلیوں کے نشانات تھے جس سے سمجھا جارہا ہے کہ وہ باہر آنے یا مدد کے لیے توجہ مبذول کروانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔لاشوں کو ایس یو وی سے نکال کر میو اسپتال منتقل کیا گیا، پورے آپریشن کی ویڈیو گرافی کی گئی اور بعد میں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی۔گاڑی جلگاؤں کی تھی، لیکن ناگپور کے ایک مقامی کی ملکیت تھی، اور اسے قریبی علاقے میں ایک گیریج مکینک نے پاورلوم ورکشاپ کے باہر کھڑا کیا تھا۔پنچ پاؤلی پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی گمشدگی کی شکایت کے بعد، تقریباً 200 اہلکاروں کی مختلف ٹیموں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کیا، محلے میں گھر گھر تلاشی شروع کی، اور ایک ڈاگ اسکواڈ بھی وہاں گیا تھا لیکن بچوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہا۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایس یو وی کو عموماً کھلا چھوڑ دیا جاتا تھا اور اکثر بچے اندر کھیلتے تھے لیکن اس بار بچوں نے نادانستہ طور پر اسے لاک کر دیا اور پھنس گئے۔پنچ پاؤلی پولس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تینوں بچوں کی موت کی عارضی وجہ‘دم گھٹنا’بتایا گیا ہے، جو غالباً شدید گرمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ناگپور کے پولیس کمشنر امیتیش کمار، ڈپٹی کمشنر آف پولیس ایم سدرشن (کرائم) اور ڈی سی پی گورکھ بھامرے (زونل) کی قیادت میں اعلیٰ حکام اس معاملے کی تحقیقات کی رہنمائی کر رہے ہیں۔متاثرہ خاندانوں کا تعلق اتر پردیش سے ہے، وہ ناگپور میں کام کرتے ہیں اور پچھلے کچھ سالوں سے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں۔