TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –20 JUNE
چھپرہ،20جون:بہار کے چھپرہ کی ایک لڑکی نے فیس بک پر لڑکا بن کر ہریانہ کے گروگرام کی رہنے والی ایک لڑکی سے معاشقہ کیا اور بعد میں دونوں فرار ہوکر اترپردیش کے کانپور میں ملے۔ ایک دوسرے کو پسند کرنے کے بعد دونوں نے ممبئی میں جاکر ایک مندر میں شادی کرلی۔ بعد میں گروگرام کی لڑکی کو جب پتہ چلا کہ جس کو اس نے ہمسفر بنایا ہے، وہ دراصل لڑکا نہیں بلکہ لڑکی ہے۔ ایک دوسرے سے شادی کرنے والی دونوں لڑکیاں نابالغ ہیں۔ اس معاملہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب چھپرا کے ایکما تھانہ علاقہ کی رہنے والی لڑکی کے والد نے تھانہ میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔بتایا جارہا ہے کہ چھپرا کی رہنے والی لڑکی فیس بک پر لڑکے کے نام سے پروفائل چلاتی تھی۔ وہ یہاں گروگرام کی ایک لڑکی سے بات چیت کرنے لگی۔ تقریبا تین ماہ تک دونوں نے بات چیت کی۔ فیس بک پر ہی ان میں پیار ہوگیا، جس کے بعد دونوں نے شادی کرکے ایک ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد چھپرا کی لڑکی گزشتہ دو جون کو گھر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ گروگرام والی لڑکی نے بھی اپنا گھر چھوڑ دیا۔ یہ دونوں لڑکیاں کانپور میں ملیں، جہاں سے ممبئی جاکر انہوں نے مندر میں شادی کرلی۔شادی کے بعد چھپرا والی لڑکی نے ممبئی میں 15 دنوں تک ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام بھی کیا۔ سہاگ رات میں گروگرام والی لڑکی کو سمجھ میں آیا کہ جس سے اس نے شادی کی ہے، وہ دراصل لڑکا نہیں بلکہ لڑکی ہے۔ اس کے بعد 14 جون کو یہ دونوں چھپرا پہنچی۔گروگرام کی لڑکی نے اپنی مانگ میں سہاگ کا سندور بھی لگایا۔ وہ آبائی طور سے بہار کے ہی گوپال گنج کے بینکٹھ پور تھانہ علاقہ کی رہنے والی ہے۔ یہاں سے اہل خانہ دونوں کو تھانہ لے کر پہنچے۔ دونوں نے پولیس کے سامنے اپنا موقف پیش کیا۔ پوچھ گچھ میں پتہ چلا کہ گروگرام کی لڑکی نے نوکری کا لالچ دے کر چھپرا کی لڑکی کو بلایا تھا، جس کے بعد سے چھپرا کی لڑکی کا نمبر بند آنے لگا۔چھپرا کی لڑکی کا رہن سہن اور لباس لڑکوں جیسا ہے۔ تھانہ انچارج رتنیش ورما نے بتایا کہ گروگرام کی لڑکی نے مانگ میں سندور بھر رکھا تھا جبکہ ایکما کی لڑکی پینٹ شرٹ میں تھی۔ پولیس نے دفعہ 164 کے تحت بیان درج کرنے کے بعد دونوں کو ان کے اہل خانہ کو سونپ دیا ہے۔