افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کی امداد میں ایک ارب ڈالر کی کٹوتی

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –22 JUNE

کابل،22جون: طالبان حکام کے ساتھ خواتین کی تعلیم اور کام کرنے کیحق پر جاری تنازع اورعطیہ دہندگان کی جانب سے فنڈنگ میں کمی کے باعث اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کی اپنی درخواست میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی کر دی ہے جس کے نتیجے میں امدادی ادارے بھی لاکھوں افغان باشندوں کی معاونت میں کمی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ انہیں اشد ضرورت ہے۔اقوام متحدہ نے اس سال مارچ میں افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد سے متعلق ایک منصوبہ” ہیومنٹیرین ریسپانس پلان” یا ،ایچ آر پی ، شروع کیا تھا، جس کے لیے اس سال عطیات دہندگان سے 2 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ انتہائی ضرورت مند افغان باشندوں کی مدد کے لیے4 ارب 60 کروڑ ڈالر کے عطیات کی اپیل کی تھی۔اس سے قبل دسمبر میں طالبان نے افغان خواتین پر اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ کام کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ طالبان عہدے داروں نے کہا تھا کہ ،خواتین کو مذہبی اور ثقافتی وجوہ کی بناء￿ پر غیرمعینہ مدت کے لیے تعلیم اور کام سے روک دیا گیا ہے۔کئی غیر ملکی اداروں نے خواتین کو کام پر جانے سے روکنے کیرد عمل میں اپنی امدادی کارروائیاں معطل کر دیں تھیں۔انسانی ہمدری کے امدادی منصوبے یا ایچ پی آر کے وسط سال کے جائزے کے نتیجے میں مطلوبہ فنڈنگ اور اس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد میں اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں۔گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ ‘‘اس نظر ثانی شدہ منصوبے کا مقصد جون اور دسمبر 2023 کے درمیان 2 کروڑ افغان باشندوں کو کئی شعبوں میں امداد فراہم کرنا ہے جس کیلیے نئی فنڈنگ میں دو ارب 26 کروڑ ڈالرز درکار ہوں گے۔نتیجتاً، نظرثانی شدہ فنڈنگ کی اپیل اب کل 3 ارب 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے، جس میں سے 94 کروڑ 20 لاکھ ڈالر (پچھلے سال سے 85 کروڑ ڈالر کے ساتھ) بھی شامل ہیں جو اس سال جنوری اور مئی کے درمیان 17 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کی مدد پر پہلے ہی خرچ کیے جا چکے ہیں۔افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے ایک “کوآرڈینیشن پلیٹ فارم” ACBAR کے ڈائریکٹر رچرڈ ہوفمین نے وائس آف امریکہ کو بتایا، “اپیل کے صرف ایک حصے کا مثبت جواب دیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پروگرام کو محدود کرنا پڑا۔”انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے منگل کو کہا تھا، کہ طالبان کی پابندیاں افغانستان میں انسانی ہمدردی کے بحران میں ایک کردار ادا کر رہی ہیں اور “نتائج کی ذمہ داری طالبان قیادت پرعائد ہوتی ہے۔