آدتیہ ٹھاکرے کے قریبی افسران پر چھاپے

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –22 JUNE

ممبئی، 22جون:گزشتہ روز ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بی ایم سی کے شہری ترقیاتی کاموں اور کووڈ 19 کے دوران کووڈ سینٹروں میں برتی گئی بے ضابطگیوں کے سلسلہ میں ممبئی پولیس کمشنر وویک پھنسلکر کی سربراہی میں جانچ کا حکم دیا ہے اور اب کورونا وبا کے دوران سابقہ حکومت کے ذریعہ کووڈ سینٹروں کے نام پر کئے گئے مبینہ گھوٹالے کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چھاپے ماری شروع کردی ہے۔ یہ چھاپے شیو سینا کے نوجوان لیڈر آدتیہ ٹھاکرے اور شیو سینا کے ترجمان سنجے رائوت کے قریبی آئی اے ایس افسران کے دفاتر اور گھروں پر مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ افسران سابقہ حکومت کے وزراء اور اہم لیڈران کے کافی قریب بتائے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف ای ڈی نے کارروائی شروع کرتے ہوئے بدھ کی صبح ایک ساتھ 15 مقامات پر کارروائی کی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کو ممبئی، نوی ممبئی اور تھانے کے تقریباً 15مقامات پر سرچ آپریشن کیا ہے۔ کووڈسینٹرس میں گھوٹالے کرنے کا جن پر الزام لگایا گیا ہے ان میں ادھو ٹھاکرے کے فرزند آدتیہ ٹھاکرے کے قریبی مانے جانے والے آئی اے ایس افسر سنجیو جیسوال، سو رج چوان اور سنجے راوت کے قریبی مانے جانے والے سجیت پاٹکر شامل ہیں جن کے دفاتر اور گھروں پر سرچ آپریشن کیا گیا ہے۔ ای ڈی نے جس آئی اے ایس افسر سنجیو جیسوال کے گھر پر چھاپہ مارا ہے، وہ کووڈ کے دوران تھانے کیمیونسپل کمشنر اور بی ایم سی میں ایڈیشنل کمشنر کے عہدے پر فائز تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال مذکور ہ کیس میں تفتیشی ایجنسی نے بی ایم سی کمشنر اقبال سنگھ چہل کا بیان درج کیا تھا اور پوچھ تاچھ کے دوران کووڈ سینٹروں کو قائم کرنے کے لئے کن ضابطوں کے تحت ٹھیکہ دیا گیا تھا، اس کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ شکایت بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے درج کرائی تھی اور اس معاملے میں جلد از جلد کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت کے قریبی سجیت پاٹکر، لائف لائن اسپتال مینجمنٹ سروس اور اسپتال کے تین پارٹنرس ڈاکٹر ہیمنت گپتا، سنجے شاہ اور راجو سالونکے کے خلاف آزاد میدان پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی کرائی تھی۔ آزاد میدان پولیس اسٹیشن میں درج کردہ کیس کے بعد ممبئی پولیس کی اکنامکس آفینس ونگ کوکیس منتقل کر دیا گیا تھا۔اسی درمیان کیس کا جائزہ لینے کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس سلسلہ میں منی لانڈرنگ کے تحت کیس درج کیا تھا۔ اب تک کی تفتیش کے مطابق2020 ئمیں لائف لائن اسپتال بنایا گیا لیکن اس کی تعمیر میں بی ایم سی نے ایک روپیہ خرچ نہیں کیا تھا البتہ جب اسپتال تعمیر ہوگیا تو بی ایم سی کی زیر سرپرستی اسیشروع کیا گیا اور بی ایم سی نے ہی تمام طبی اسٹاف فراہم کیا تھا۔شکایت کے مطابق جس سجیت پاٹکر کو کووڈ سینٹرس اور لائف لائن اسپتال کا ٹھیکہ دیا گیا، اسے طبی شعبہ کا کوئی علم تک نہیں ہے۔اس کے باوجو سابقہ حکومت نے اتنی بڑی بے ضابطگی کو برداشت کیا۔ اس کی وجہ سے کووڈ سینٹرس پر کئی دیگر طرح کے معاملات بھی پیش آئے۔ آدتیہ ٹھاکرے اور سنجے رائوت کے قریبی افسران کے خلاف کی گئی ای ڈی کی کارروائی پر ان دونوں لیڈروں کا خبر لکھے جانے تک تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا لیکن شیو سینا کے باوثوق ذرائع کا کہنا تھا کہ ای ڈی اس معاملے میں بلاوجہ کی کارروائی کررہی ہے۔ گھوٹالے کے سلسلے میں جو شکایت درج ہوئی وہ کس نے کروائی یہ بات سبھی جانتے ہیں اس لئے اسے بہت زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔