TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –23 JUNE
یروشلم،23جون:ایران کے ساتھ جنگ کی نقل کرنے والی فوجی مشقوں سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ میرے پاس ایران اور عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام یہ ہے کہ اسرائیل ایران کو ایٹم بم حاصل کرنے سے روکنے کے لیے وہ کرے گا جو اسے کرنا چاہیے۔ایران کے بارے میں حالیہ اسرائیلی بیانات میں سے زیادہ تر ایران کے ایٹمی پروگرام کی پیشرفت پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان بیانات میں یکطرفہ کارروائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔
تہران کی سفارتی سرگرمیوں کی تازہ ترین لہر سے اسرائیل کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ خاص طور پر چین کی ثالثی میں سعودی عرب کے ساتھ ایران کے سفارتی تعلقات کی بحالی نے اسرائیل کو پریشان کردیا ہے۔مزید برآں اس سال کے آغاز سے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے چین، شام، انڈونیشیا اور جنوبی امریکہ کے تین امریکی پابندیوں والے ملکوں کیوبا، نکاراگوا اور وینزویلا کے ساتھ مختلف کثیر الجہت تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
ابراہیم رئیسی کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے تہران کے تاریخی دورے میں اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کی میزبانی کی اور خلیج کے تین ملکوں قطر، کویب اورسلطنت عمان میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی۔
دوسری طرف امریکہ اور ایران نے مبینہ طور پر تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کردیے۔ ایران نے زیر حراست امریکی شہریوں کو رہا کیا اور امریکہ نے کچھ ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کر دیا۔اس دوران نیتن یاہو نے بارہا واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل تہران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کا پابند نہیں ہوگا۔ انہوں نے حال ہی میں زور دے کر کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا پابند نہیں ہوگا اور اپنا دفاع جاری رکھے گا۔
فی الحال سیاسی منظر نامہ قدرے بدلنا شروع ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایران تنہائی سے نکل رہا ہے اور وہ اپنے جیسے “مغرب مخالف” ذہنیت کے حامل ملکوں کے ساتھ ممکنہ شراکت تلاش کرنے کے ذریعے کھلے پن کی ایک منتخب حکمت عملی کا استعمال کر رہا ہے۔ ایران سعودی عرب کے ساتھ اپنے بحال ہونے والے تعلقات کو استعمال کرنے کی امید بھی کر رہا ہے تاکہ مصر اور امارات جیسے دوسرے علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ مزید معمول پر آنے والے معاہدوں کا آغاز کیا جا سکے۔
کونسل آف فارن ریلیشنز میں مشرق وسطیٰ کے مطالعہ کے لیے منسلک سینئر فیلو ہنری بارکی نے کہا کہ کسی کو ایرانی بم سے اسرائیل کے گہرے نفسیاتی خوف کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ خوف موجود ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر اسرائیل کے تمام فریق متفق ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ایرانی رویے نے ان تصورات کو مزید گہرا کیا ہے۔موجودہ جغرافیائی سیاسی ہواؤں کے پیش نظر اسرائیل کا ایران کے بارے میں خطرے کی سطح کا ادراک بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خطرہ ایک حد تک ممکنہ طور پر عمل کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔
تاہم بارکی نے کہا کہ اسرائیل معیشت سے لے کر سیاست اور بنیادی ڈھانچے تک تمام شعبوں میں ایران کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اپنی طاقت کے استعمال کی ہر ممکن ممکن کوشش کرے گا۔اسرائیل کی موجودہ اور سابق دونوں حکومتوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسے اس جانب دھکیلا گیا تو اسرائیل ایران کے خلاف تنہا کارروائی کر ڈالے گا۔ نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا ہے ہمیں یقین ہے کہ ہم اپنے طور پر کسی بھی خطرے سے نمٹ سکتے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے کسی یکطرفہ بڑے فوجی حملے کا امکان نہیں ہے۔گورین نے کہا کہ اسرائیل ایران کے مقابلے میں اکیلے کام کرنے کی اپنی صلاحیت پر زور دیتا ہے لیکن گزشتہ برسوں میں وہ واضح طور پر ایران کے مسئلہ سمیت سلامتی کے معاملات پر امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کو ترجیح دیتا آرہا ہے