کبھی اپنےگریبان میں بھی جھانک لینا چاہئے !

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –25 JUNE     

کل 25 جون تھا ۔وطن عزیز بھارت میںایمرجنسی کے نفاذ کے 48 سال پورے ہو گئے ۔25 جون، 1975 کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ریڈیو کے ذریعے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ایمرجنسی کی برسی پر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اپنی ہفتہ وار میگزین ’’پانچ جنیہ ‘‘کاایک خصوصی شمارہ شائع کیا ہے۔ ’’پانچ جنیہ ‘‘ کے تازہ شمارے میں اندرا گاندھی کا موازنہ جرمن ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر سے کیا گیا ہے۔ میگزین کے سرورق پر دونوں ( ہٹلر اور اندرا گاندھی) کی تصویروں کے نیچے عنوان دیا گیا ہے:’’ ہٹلر گاندھی! ‘‘ میگزین کے سرورق پر کیپشن میں لکھا گیا ہے’’ دو تانا شاہ ، ایک جیسی عبارت۔ہٹلر کے سنگین جرائم سے انکار کرنے یا بھلانے پر یوروپ میں کئی جگہ قانونی پابندی ہے۔یہ ان کے لئے وجود کا سوال ہے۔یہی صورتحال بھارت میں اندرا گاندھی کے ذریعہ لگائی گئی ایمرجنسی کی ہے، جسے بھلانا جمہوریت کے وجود کے لئےخطرناک ہو سکتا ہے۔آئیے، یاد کریں 25 جون ، 1975 کی کالی رات سے شروع ہوئی وہ داستان ………‘‘ اس سرورق کو میگزین کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے بھی شیئر کیا گیا ہے۔ آر ایس ایس میگزین کے اس معاملے پر کانگریس کی طرف سے تادم تحریر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ملک میں 25 جون 1975 سے 21 مارچ 1977 تک 21 ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ رہی۔ اس وقت کے صدر فخر الدین علی احمد نے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی قیادت میں حکومت کی سفارش پر بھارت کے آئین کے آرٹیکل 352 کے تحت ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔آر ایس ایس کی تحریک پر اس ایمرجنسی کی یاد کو تازہ کرنے اور ملک کے عوام کو بالخصوص نئی نسل کو یاد دلانے کے لئے بی جے پی نے ایمرجنسی کی برسی پر ملک بھر میں کانگریس کو گھیرنے کا پروگرام منعقد کیا۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر پوسٹرز، بینرز اور ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو، خاص کر نوجوان ووٹروں کو، جنہوں نے ایمرجنسی کے بارے میں صرف سنا یا پڑھا ہے، یہ بتانے کی کوشش کی کہ کانگریس حکومت نے کس طرح کی زیادتیاں کی ہیں۔سننے میں آیا ہے کہ بی جے پی اپنے تمام ممبران پارلینٹ، ممبران اسمبلی اور اوپر سے لیکر نیچے تک کے کارکنان کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہر سطح پر، 25 جون کو ایمرجنسی سے متعلق پروگرام منعقد کریں اور ایمرجنسی کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی کے سانحہ کا شکار ہونے والوں کو بھی اس میں مدعو کریں تاکہ بڑے پیمانے پر ایمرجنسی کے نقصانات کی باتیں عوام تک پہنچ سکیں۔
واضح ہو کہ 18 جون کو اپنے ریڈیو پروگرام’’ من کی بات‘‘ میں نوجوان نسل کو ایمرجنسی کے بارے میں بتانے کی وکالت کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے بھی کہا تھا کہ’’بھارت جمہوریت کی ماں ہے۔ ہم اپنے جمہوری نظریات کو سب سے اہم سمجھتے ہیں، ہم اپنے آئین کو سب سے اہم سمجھتے ہیں، اس لیے ہم 25 جون کو بھی کبھی نہیں بھول سکتے۔ یہ وہی دن ہے جب ہمارے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہوئی تھی۔ یہ بھارت کی تاریخ کا ایک سیاہ دور تھا۔ لاکھوں لوگوں نے ایمرجنسی کی شدید مخالفت کی۔ اس دور میں جمہوریت کے حامیوں پر اس قدر تشدد کیا گیا کہ آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ ‘‘
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کانگریس کے حوالے جون کے مہینے کو دو وجوہات کی بنا پر یاد کیا جاتا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہےکہ 12 جون، 1975 کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت الہ آباد ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی۔ دوسری وجہ 25 جون، 1975 کی آدھی رات کو اندرا نے اپنے بیٹے سنجے گاندھی کے دباؤ میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ ساتھ ہی ملک کے تمام چھوٹے بڑے لیڈروں کی گرفتاریاں راتوں رات شروع ہو گئیں۔ یہ گرفتاریاںبھی ایسے وقت میں ہوئیں جب ملک کے بیشتر لوگ گہری نیند میں سو رہے تھے جبکہ کچھ ملک میں تبدیلی کا خواب دیکھ رہے تھے۔ جئے پرکاش نارائن نے ملک کے اقتدار اور نظام میں تبدیلی کے لیے 1974 میں انقلاب کا بگل بجا دیا تھا ، جس کا نام انھوں نے’’ مکمل انقلاب‘‘ دیا تھا۔اس سے اندرا گاندھی پریشان تھیں۔جس دن ایمرجنسی لگائی گئی تھی، جئے پرکاش نارائن نے دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک بڑی ریلی نکالی تھی۔ بھیڑ اس طرح جمع ہوئی کہ وہیں سے ’’ مکمل انقلاب‘‘ کا آغاز ہوگیا اور اسی انقلاب کے طوفان میں اندرا گاندھی کی حکومت بکھر گئی۔ بی جے پی اسی مکمل انقلاب کو اپنے ڈھنگ سے عوام کے سامنے پیش کرکے ماحول کو اپنے لئے سازگار بنانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔جبکہ30 سے 35 سال کے نوجوان جگہ جگہ آج یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ ’’ہم نے تو ایمرجنسی نہیں دیکھی ہے اور نہ اس کے نقصانات سے واقف ہیں، لیکن پچھلے کچھ برسوں سے ملک میں مبینہ طور پر جو غیر معلنہ ایمرجنسی نافذ ہے، اس کے ہم براہ راست بھکت بھوگی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آج بھی ملک میں ایسے حالات ہیں کہ حکومت سے کوئی سوال نہیں کر سکتا ہے۔حکومت سے آنکھ ملانے کی ہمت کرنے والے کئی نوجوان سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ان کا الزام ہے کہ جو لوگ جمہوری اقدار کا حوالہ دیکر اندرا گاندھی کے غلط اقدام کو کوستے آج نہیں تھک رہے ہیں ، انھیں کبھی کبھی ایمانداری کے ساتھ اپنےگریبان میں بھی جھانک لینا چاہئے۔
********************************