TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -26 JUNE
کولکاتا، 26 جون:۔ مغربی بنگال کے مشہور ٹیچرس تقرری بدعنوانی معاملے کی تحقیقات کے درمیان چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اسکول سروس کمیشن (ایس ایس سی) کے ذریعے گروپ سی میں اساتذہ کی تقرری سے متعلق تمام دستاویزات محکمہ تعلیم کے ہیڈ کوارٹر سے غائب ہیں۔
مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے ذرائع نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔ معلوم ہوا ہے کہ عدالت کے حکم پر جاری تحقیقات کے درمیان گروپ سی کی تقرری سے متعلق فائل ایس ایس سی سے مانگی گئی تھی لیکن وہ اسے دینے سے گریزاں تھی۔ اس کے بعد جب تفتیشی افسران نے اچانک دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک میں بھی وہ فائل نہیں تھی اور سافٹ کاپی بھی دستیاب نہیں تھی۔
دراصل، اس فائل کے بارے میں معلومات اس معاملے میں گرفتار سابق وزیر تعلیم پارتھ چٹرجی اور دیگر ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد ملی تھی۔ اس کے بعد ہی مرکزی ایجنسی کے اہلکاروں نے اسے حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیں تو پتہ چلا کہ فائل غائب ہے۔
ایس ایس سی کے عہدیداروں کو نوٹس بھیجا گیا ہے کہ وہ اس سے متعلق تمام دستاویزات جمع کرائیں۔ جس کے جواب میں ایس ایس سی نے ایک خط دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ فائل ایس ایس سی کے دفتر میں دستیاب نہیں ہے۔ گمشدہ فائل کے بارے میں ایک تحریری شکایت گزشتہ سال جون میں ودھان نگر نارتھ پولیس اسٹیشن میں جمع کرائی گئی تھی۔ اب مرکزی ایجنسی کے اہلکاروں نے بھی پولیس سے رابطہ کر کے شکایت کی کاپی حاصل کر لی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گروپ سی کی تقرری میں سب سے زیادہ بدعنوانی ہوئی تھی اور اس میں وزیر تعلیم براہ راست ملوث تھے۔ اس لیے فائل کا غائب ہونا خود ریاستی اہلکاروں کے کام کرنے کے انداز پر سوال اٹھاتا ہے۔