اپنا ہی دل کہیں صنم آشنا تونہیں ہو گیا ہے ؟!

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -01 JULY      

  زندگی کے حصے میں آیا اس سال کا دوسرا عظیم تہوار (عید الاضحی ) بھی حسب سابق اپنے تمام تر تقاضوں کو یاد دلاتے ہوئے دبے پاؤں گزر گیا۔اس موقع پربھارت سمیت پوری دنیا کے مسلمان ،اللہ کے حضور حاضر ہوکردورکعت نماز کی ادائیگی کے بعد اس سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کیا ، جسے ان کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہزاروں سال قبل محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر انجام دیاتھا۔بلا شبہہ عید قربان مسلمانوں کی سماجی زندگی کا ایک بڑا اوربابرکت تہوار ہے۔تہوار کی خوشیاں سماجی زندگی میں بے پناہ اہمیت رکھتی ہیں۔ تہوار منانا سماجی زندگی کی جان ہیں۔  انسانوں کے درمیان تہوار کسی تاریخی واقعہ کی یاد گار کے طور پر منائے جاتے ہیں اسی لئے ہر قوم کے تہوار اپنی روایات رکھتے ہیں۔
عید الاضحی کا تذکرہ خدا کے خاص بندگان اور پیغمبران حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کے ساتھ منسلک‘ مربوط اور مشروط ہے۔ عید الاضحی کا بنیادی فلسفہ ہی قربانی،ایثار، خلوص اور اللہ کی راہ میں اپنی عزیز ترین چیز نچھاور کردینا ہے۔ اگر عید الاضحی سے ہرطرح کی قربانی کا تصور اور فلسفہ نکال دیا جائے تو پھر عید الاضحی کا مفہوم بے معنی ہوجاتا ہے۔اس عظیم اور خوشی کے موقع پران لوگوں کو بھی یاد رکھا جاتا ہے، جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،جو بے سہارا ہیں، مصیبت زدہ ہیں، کسی نہ کسی شکل میں ضرورت مند ہیں۔عید الاضحی جیسے خوشی کے دن ان لاکھوں انسانوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے جو آج بہت پریشان حال ہیں ،جن کے پاس کل تک سب کچھ تھا ،لیکن آج حالات نے انھیںدانے دانے کا محتاج بنا دیا ہے۔
یہ انتہائی ضروری ہے کہ فرضیت اوروجوب کے علاوہ اپنی خوشیوں کے موقع پر ان لوگوں کی دل کھول کر مدد کی جائے،جو کسی وجہ سے ان خوشیوں سے محروم ہیں۔ مدد ایسی ہو کہ ان میں جو مسلمان ہیں وہ بھی تھوڑی دیر کیلئے خوشی مناسکیں اور جو غیر مسلم ہیں،ان کی بھی داد رسی ہوسکے۔ عید قرباں منانے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر وہی روح، اسلام و ایمان کی وہی کیفیت اور خدا کے ساتھ محبت و وفاداری کی وہی شان پیدا ہو، جس کا مظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کیا تھا۔اگر کوئی انسان محض ایک جانور کے حلق پر چھری پھیرتا ہے اور اس کا دل اس روح سے خالی رہتا ہے ،جو قربانی میں مطلوب ہے تو یقیناََ وہ ایک جاندار کا ناحق خون بہاتا ہے۔ عید الاضحی پر جانوروں کی قربانی اس بات کو یاد دلانے کے لیے کی جاتی ہے کہ اللہ کے دئیے ہوئے جانوروں کو جب ہم اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں تو اپنے اس ایمان کو تازہ کرتے ہیں کہ ہماری جان اور ہمارا مال سب کچھ اللہ کا ہے، اور وقت آنے پر ہم اپنی ہر چیز خواہ وہ اپنی جان ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔
’’عید الاضحی‘‘ اللہ تعالیٰ کے دین کے مکمل ہونے کا جشن بھی ہے اور اسوۂ ابراہیمی کی یادگار بھی۔ جس طرح روزہ انسان میں تقویٰ پیدا کرتا ہے، اللہ کی بندگی کراتا ہے، راتوں کو کھڑا رکھتا ہے، خدا کے قریب کرتا ہے ٹھیک اسی طرح قربانی اس بات کی تربیت دیتی ہے کہ انسان بذات خود انسانیت کی کسوٹی پر کھرا اترے اور وہ ایثار و قربانی کے اس جذبے سے ہمیشہ سر شار رہےجو عید الاضحی کے تقاضے ہیں۔کوئی آدمی خواہ کتنا بھی قیمتی جانور کی قربانی کیوں نہیں کرتا ہو، اسے یہ قطعی نہیں بھولنا چاہئے کہ اسوۂ ابراہیمی توحید کی علامت ہے۔ گناہ تو ہر آدمی سے ہوتے ہیں، کوتاہیاں بھی سر زد ہوتی ہیں، لیکن اپنی زندگی کا رخ بس اسی جانب ہونا چاہیے، جو بیت الحرام کا رب اور مالک ہے۔ایک سچے انسان اور پکے مسلمان زندگی کا ایک رْخ، ایک قبلہ، ایک مقصد اور ایک منزل کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہونا چاہئے۔جس کا اقرار ہم شب و روز کرتے ہیں، وہ اقرار ہمارا عملی نمونہ بن جائے کہ’’میں نے تو یکسو ہوکر اپنا رْخ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے، جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘
عالم اسلام آج جس گرداب میں الجھ گیاہے، اس سلسلے میں بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ کسی اور کی مسلط کردہ نہیں بلکہ اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے۔قرآن و سنت ، اتحادِ امت کے اصولوں سے روگردانی کے نتائج کے طور پر یہ پریشانیاں ہمارے سامنے ہیں۔یقین جانیں سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے عید الاضحیٰ کا انتظار شدت کے ساتھ کرنےاور پھر مسلسل تین دنوں تک جانوروں کے حلق پر چھری پھیرنے والے فرزندان توحید اگر اسی کے ساتھ، اسی وقت  اپنی انا ، زعم، ضد ، نفرت ، حیوانیت، شیطانیت، تعصب، عداوت، مکر، نا انصافی، بے ایمانی، جھوٹ ، فریب، عیاری ، مکاری ، غیبت ، بہتان تراشی اور غیر انسانیت کے دیگر بتوں کو ہمیشہ کے لئے توڑ دیں ، قربان کر دیں تو عالم اسلام بلکہ عالم انسان تمام تر بحرانوں سے نجات پا لے گا۔ یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کی سر زمین پر اسلام کا پیغامِ امن صرف تقریروں اور طرح طرح کے نعروں سے عام نہیں ہو سکتا ۔اس کے لئے تحمل ،تدبر ، بھائی چارہ محبت،اخوت ، ہمدردی ، صلہ رحمی اور حقوق العباد کے دیگر تمامتر تقاضوں کو پورا کرنا پڑے گا۔اور اس کے ساتھ ہی کبھی کبھی اپنے عمل کا احتساب بھی کرناہوگا اور معلوم کرنا ہوگا کہ اپنا ہی دل کہیں صنم آشنا تو نہیں ہو گیا ہے  ؟!
**************************