TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -02 JULY
اِدھر 2024 میں بی جے پی کو مر کز کے اقتدار سے بر طرف کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی مورچہ بندی ہو رہی تھی اور اُدھر بی جے پی نےمہاراشٹر میں کھیلا کر دیا۔ملک کی کم سے کم 18 اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اتحاد کے سفر کی شروعات اس نیت سے کی تھی اس بار ہم لوگ مل جل کر انتخابات لڑیں گے۔ون ٹو ون فائٹنگ ہو گی ۔ یعنی بی جے پی کے ایک امیدوار کے مقابلے میں ہمارا بھی کوئی ایک ہی امیدوار میدان میں ہوگا، لیکن اب ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔
گزشتہ 23 جون کو پٹنہ میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کی میزبانی میں اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ ہوئی تھی۔اس وقت اپوزیشن جماعتوں کا جوش و خروش عروج پر تھا، لیکن پتہ نہیں اس اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے بعداس پر کس کی نظر لگ گئی۔ عام آدمی پارٹی سب سے پہلے کانگریس کے خلاف کھڑی ہوگئی۔، دونوں کے درمیان دھیرے دھیرے زبانی جنگ تیز ہو نے لگی ۔ دوسری طرف مرکزی حکومت نے یونیفارم سول کوڈکا ابھی شوشہ ہی چھوڑا تھا کہ عام آدمی پارٹی مرکز کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ شیو سینا (ادھو) بھی اس کی حمایت میں میدان میں آگیا۔اس کے بعد اتوار کو مہاراشٹر میں سیاست کا جو ننگا ناچ ہوا ،اس سے ایسا لگتا ہے کہ اس نے اپوزیشن اتحاد کا سارا کھیل ہی بگاڑ کر رکھ دیا ۔
شرد پوار کے طویل سیاسی تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کانگریس اور نتیش کمار سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے اپوزیشن اتحاد کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے ابھی قدم ہی بڑھایا تھا کہ اسی درمیان شرد پوار کا کنبہ ہی ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا۔ اب شرد پوار اپوزیشن پارٹیوں کو جوڑنے کی کوشش کرنے کے بجائے اپنے ہی گھر کی حالت دیکھ کر بے حال ہیں۔دراصل شرد پروار کے بھتیجے اجیت پوار کافی دنوں سے پارٹی اعلیٰ کمان سےناراض چل رہے تھے۔ ادھر دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کی طرف سے مسلسل بیانات دیئے جا رہے تھے کہ وہ جلد ہی بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن شرد پوار شاید اس صورتحال سے پوری طرح بے خبر تھےیا اس طرح کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے۔
ہوا یہ کہ اتوار یعنی 2 جولائی کو اجیت پوار این سی پی کے 40 ایم ایل ایز کے ساتھ مہاراشٹر کے راج بھون پہنچے۔اس کے بعد مہاراشٹر کے سی ایم ایکناتھ شندے اور ڈپٹی سی ایم دیویندر فڑنویس پیچھے سے راج بھون کی سیڑھیاں چڑھ گئے۔ حکومت کے تمام وزراء بھی ان کے ساتھ تھے۔ پھر جلدی جلدی اجیت پوار نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔ یعنی ایک گھنٹہ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈ ر اجیت پوار مہاراشٹر کے ڈ پٹی سی ایم بن گئے۔اجیت پوار کے ساتھ این سی پی کے مزید 9 ایم ایل ایز نے وزیر کے طور پر حلف لے لیا۔ اسی وقت شرد پوار کے قریب ترین پرفل پٹیل بھی اجیت پوار کے ساتھ راج بھون میں موجود تھے۔ ایسے میں بھلے ہی مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیو سینا ( شندے گروپ) حکومت کو این سی پی کے ذریعہ حمایت کا اسکرپٹ تیار کیا گیا ہو، لیکن 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں این سی پی کے اس سیاسی کھیل کو اپوزیشن اتحاد کے لئے زور دار جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
چند سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہاپوزیشن اتحاد کے معاملے میں نتیش کمار کی قیادت سے شرد پوار اندر سےخوش نہیںتھے۔ وہ شاید اپوزیشن اتحاد کے لیے راہل گاندھی کو کانگریس کی جانب سے لگاتار مسلط کئےجانے کو بھی پسند نہیں کر رہے تھے۔ ویسے بھی مہاراشٹر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ شرد پوار کی منظوری کے بغیر این سی پی کے لوگ اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتے ہیں۔ اگراس قیاس آرائی میں تھوڑی بھی سچائی ہے کہ اپوزیشن اتحاد کا مسودہ تیار کرنے کی ذمہ داری جن تجربہ کار لیڈرکو سونپی گئی تھی، اگر اسی کے اشارے پر ان کے اشارے پر ان کی پارٹی کے لوگوں نے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم سے الگ ہوکر اسے مضبوط کرنے کی ٹھان لی ہے تو اپوزیشن اتحاد کے منصوبے کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ نتیش کمار اس معاملے میں آگے کیا کر پائیں گے، یہ تو بعد میں پتہ چلے گا، لیکن بہار میں عظیم اتحاد کے ساتھ وابستہ پارٹیاں بھی مضبوطی کے ساتھ متحد ہیں، اس سلسلے میں ابھی دعوے کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔ دور کیوں جائیں،نتیش کمار کی اپنی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کے لیڈروں کے درمیان جس طرح کی آپسی سرگوشیوں کا بازار گرم ہے، اسے کچھ سیاسی مبصرین مہاراشٹر میں بنی سیاسی فلم ’’این سی پی‘‘ کا ٹریلر مانتے ہیں۔بہار کے سیاسی گلیاری میں اب تو یہی چرچا ہے کہ بہار میں بھی 12 جولائی سے پہلے کوئی سیاسی دھماکہ ہونے والا ہے۔وہ دھماکہ کس نوعیت کا ہوگا، اس سلسلے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن یہ تو طے ہے کہ این سی پی کے رویہ سے اپوزیشن اتحاد کا شیرازہ بکھرنے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
***********