لاہور میں ریکارڈ بارش، 11 سالہ بچے سمیت سات افراد ہلاک‘

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -05 JULY      

اسلام آباد ،05جولائی:پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بدھ کی علی الصبح سے ہونے والی ریکارڈ موسلا دھار بارش کے بعد مختلف واقعات میں اب تک دو خواتین اور ایک 11 سالہ بچے سمیت سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔صوبائی حکومت کے مطابق لاہور میں بارش کا گذشتہ 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں 10 گھنٹوں میں 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ لکشمی چوک پر سب سے زیادہ 236 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔حکام کے مطابق اس دوران سات افراد ہلاک ہوئے جن میں سے تین افراد بجلی کے کرنٹ کی وجہ سے اور تین افراد چھتوں کے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ایک 11 سالہ بچے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بارش کے پانی میں کھیل رہا تھا اور ڈوبنے کی وجہ سے اس کی ہلاکت ہوئی۔صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ایک ٹویٹ میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جوٹوئٹر کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے ٹوئٹر کی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔یاد رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ماہ 26 جون کو لاہور میں زیادہ سے زیادہ 256 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جبکہ گذشتہ سال 2022 میں لاہور میں 238 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کے مطابق اس سے قبل 2018 میں لاہور میں 288 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے 24 گھنٹوں میں لاہور میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کا امکان ہے۔بدھ کی صبح شروع ہونے والی موسلا دھار بارش کے سبب شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا جبکہ شہر کے وسط سے گزرنے والی نہر کا پانی تک متصل شاہراؤں پر آ گیا۔ایسے میں شہر کے مختلف علاقے زیر آب آ گئے اور مختلف سڑکیں، بازار اور متعدد انڈر پاس پانی میں ڈوب گئے۔ ایک جانب ٹریفک کا نظام متاثر ہوا تو دوسری جانب شہر کے کئی حصوں میں بجلی اور گیس کی فراہم بند ہو گئی۔لاہور میں بجلی کی ترسیل کے ذمہ دار ادارے لیسکو کے مطابق ٹرپ ہونے اور دیگر تکنیکی خرابی کی وجہ سے شہر کے متعدد علاقے بجلی سے محروم ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بھی تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر آٹھ جولائی سے شروع ہونے والے بارش کے سلسلے کے حوالے سے الرٹ رہیں۔صوبے کے نگران وزیر اعلی محسن نقوی نے دعوی کیا ہے کہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ٹوئٹر پوسٹ نظرانداز کریں ٹوئٹر کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو ٹوئٹرکی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے ٹوئٹر کی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔لاہور میں ہونے والی بارش پر سوشل میڈیا پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آیا۔ جہاں کثیر تعداد میں لوگوں نے شہر کے مختلف علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز لگائیں، وہیں چند نے شکایت کی کہ لاہور میں بارش کے بعد ایسی صورت حال حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔صحافی ناصر جمال نے لکھا کہ ’لاہور میں سیلابی صورت حال ہے۔