آل انڈیا ملی کونسل بہار کے زیراہتما م منعقد سمپوزیم میں وکلاء اوردانشوروں کا اظہار خیال

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -09 JULY      

پھلواری شریف9/جولائی (پریس ریلیز)
آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفتر پھلواری شریف پٹنہ میں آج یونیفارم سول کوٹ ملک کے لیے کتنا مفید،کتنا مضر کے عنوان پرایک سمپوزیم منعقد ہوا۔ جس کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل بہارکے صدرحضرت مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی نے کی،سمپوزیم کا آغاز جناب مولانامحمد جمال الدین قاسمی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔اس پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے اپنے افتتاحی گفتگومیں آل انڈیا ملی کونسل بہار کے کارگزارجنرل سکریٹری مفتی محمدنافع عارفی نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہماری شریعت اللہ کی نازل کردہ شریعت ہے اوراسلا م کا قانون ابدی اوردائمی ہے،اس میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی ممکن نہیں اورمسلمان کبھی اسے برداشت نہیں کر سکتے،ملک میں اگر ایسا قانون لایا گیا جو اللہ کی نازل کردہ شریعت سے متصادم ہو؛ اسے مسلمان کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کرسکتے ہیں۔ سمپوزیم کے صدر جناب حضرت مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن قاسمی صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ اس ملک کی سالمیت کے لیے خطرناک ہے،اس طرح کا کوئی قانون جس سے کسی کی بھی مذہبی آزادی پر زدپڑتا ہو،ملک کو انتشا راوربد امنی کی طرف لے جائے گا۔ اقلیتیں سمجھیں گی کہ حکومت ان کے مذہب کے خلاف ہے،یہ نہ صرف ملک کے رہنے والوں کے درمیان دوریاں پیدا کرے گا بلکہ قانونی شکنی پر آمادہ کرے گا،اس لیے یونیفارم سول کوڈ نہ صرف ملک کے آئین میں دیے گئے مذہبی آزادی کوختم کرنے کی کوشش ہے بلکہ فطرت کے خلاف بھی ہے۔آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدرحضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی اپنی بعض مصروفیتوں کی وجہ سے اس پروگرام میں شریک نہ ہوسکے،لیکن انہوں نے آ ن لائن شرکت کی۔مولانا قاسمی نے فرمایا کہ یونیفارم سول کوڈکا جن اس لیے بوتل سے باہر نکالا گیا ہے کہ ملک کی فضا کومکدر کی جائے اورالیکشن میں اس کا فائدہ اٹھایا جائے،حالاں کہ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے اورملک کا دستور بھی اس طرح کی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔اس پروگرام میں اپنے خصوصی خطاب میں پٹنہ ہائی کورٹ کے سینئر ووکیل جناب محمدخورشیدعالم صاحب نے کامن سول کورڈ اوریونیفارم سول کوڈپر گفتگو کرتے ہوئے ملک کے لیے اس کے نقصانات کو آشکار کیا،نیز انہوں نے قانون کے دفعات کے ذریعہ یہ واضح کیا کہ یونیفارم سول کوڈ آئین ہندکے خلاف ہے، انہوں نے کہا کہ قانون کی دفعہ 44/ میں یونیفارم سول کوڈ بنانے کی وکالت ضرورکی گئی ہے،لیکن اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اس سلسلے میں ملک کے سبھی طبقات اورمذاہب اورالگ الگ تہذیبوں کے ماننے والوں سے مشورے کے بعد ہی اس کا مسودہ تیار کیا جانا چاہیے، چنانچہ لاء کمیشن نے اس سے پہلے 2019اور2020میں حکومت کو واضح مشورہ دے چکا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کا نفاذ ملک کے مفاد میں نہیں ہے، ابھی پھر لاء کمیشن نے عوام سے مشورہ طلب کیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ صرف موجودہ حکومت کی الیکشن پالیسی کا حصہ ہے، آئین ہند کی دفعہ 19اور 25میں بھارت کے ہر شہری کو اپنے مذہب،اپنی تہذیب،اپنے کلچر اوراپنے رسم ورواج پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے، پھر ایسا قانون جو سب کو ایک کڑی میں باند ھ دے،یہ خود بنیادی حقوق کی دفعات سے متصادم ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یونیفارم سول کوڈ ملک کے لیے خطر ناک ہے، اورانہوں نے گوا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گوامیں کامن سول کوڈ ہے نہ کہ یونیفارم سول کوڈ،یہ درحقیقیت پرتگیز سول کوڈ ہے، اصل بات یہ ہے کہ حکومت یونیفارم کے درپردہ ہندوراشٹرکی طرف ملک کو دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے، اورہندو کوڈیہاں کے تمام مذاہب کے ماننے والوں پر جبرا ً تھوپنے کی کوشش ہے، حالاں کہ یونیفارم سول کوڈ نہ صرف دستور ہند بلکہ فطرت کے خلاف ہے اورقانون سازی کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ فطری ہونی چاہیے۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ انور صاحب نے کہا کہ یونیفارم سول کوڈ ملک کے لیے سودمند نہیں ہے اوراس کے رد کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وکلاء کا ایک پینل ضلعی سطح سے لے کر قومی سطح بنایاجائے جو اس موضوع پر مہارت کے ساتھ مسودہ تیار کرے اوراگر یہ قانون بنتا ہے تو اس کے خلاف ملک کے تمام سیشن کورٹ،ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں مقدمات کئے جائیں۔آل انڈیا ملی کونسل کے نائب صدر مولانا ابوالکلام شمسی قاسمی نے یونیفارم سول کوڈ کو ناقابل عمل قراردیتے ہوئے اسے ملک کی سالمیت کے لیے خطرناک قرار دیا، انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت ہے کہ مسلم پرسنل لا کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر تمام تنظیمیں یونیفارم سول کوڈ کے خلاف بیداری پیدا کریں۔ نیز دیگر مذہبی تنظیموں کو بھی اس تحریک میں شامل کرنا چاہئے۔جب کہ کونسل کے نائب صدر اورمشہورعالم دین مولانا ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی نے کہا کہ یہ مفروضہ ہی سرے سے غلط ہے کہ یونیفارم کے نفاذ سے اتحاد ویکجہتی پیدا ہوگی اورملک مضبوط ہوگا۔ دنیا کا سپرپاور امریکہ پچاس الگ الگ ریاستوں پر مشتمل ہے اورہر ریاست کا قانون جدا گانہ ہے،لیکن آپ دیکھیں کہ وہ دنیا کا طاقت ور ترین ملک ہے۔ اس ملک کی خوبصورتی مختلف مذاہب اورتہذیبوں کی آمیزش ہے،یہی اس ملک کی روح ہے۔ یونیفارم سول کوڈ بھارت کی روح کو ختم کر دے گا۔اس سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے مشہور شیعہ عالم دین جناب حضرت مولانا سید امانت حسین صدر مجلس امامیہ خطباء وائمہ ونائب صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار نے یونیفارم سول کوڈ کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے حق میں مضر قرار دیا۔نیز انہوں نے کہا کہ اسے ملک کی شہریوں کے درمیان تفریق پیدا ہوگی اورمذہبی آزادی چھن جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت کا ہتھ کنڈاہے جو اسے الیکشن کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔اس موقع پر آل انڈیاملی کونسل کے جنرل سیکریٹری جناب مولانا محمد عالم قاسمی اوردیگر شرکاء نے بھی اظہار خیا ل کیا۔ جناب نجم الحسن نجمی رکن آل انڈیا ملی کونسل دہلی نے مرکزی ملی کونسل سے اپیل کی ہے کہ مسلم،دلت،آدی واسی اوردیگر اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے ایم پی،ایم ایل اے کی ایک میٹنگ بلائے اوراس کے سامنے اپنے تحفاظ کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ایوانوں میں اس قانون کی مخالفت کی گزارش کی جائے اورانہیں اس کی منفی پہلوؤں کو سمجھا کر اس کی مخافت پر آمادی کیا جائے۔جناب مولاناسجاد احمد ندوی صاحب، جناب نجم الحسن نجمی صاحب، جناب ڈاکٹرسید ظفرحسین صاحب، جناب سید شمس الحسین صاحب، جناب محمد نوشاد اعظم صاحب، جناب مولاناصدر عالم ندوی صاحب، جناب ڈاکٹر مظفرالاسلام صاحب، جناب ڈاکٹر محمد ظفر عالم صاحب،جناب فیروز عالم قاسمی صاحب، جناب اشتیاق صاحب، جناب محمد آفتاب صاحب، جناب مولانا رضاء اللہ قاسمی صاحب،جناب سید محمد ارشاد صاحب، جناب مولانا نسیم احمد قاسمی صاحب، ابونصرہاشم ندوی وغیرہ موجود تھے۔