خدا بخش لائبریری میں ایک یو ایس اے کے اسکالر کا خواتین کی عمومی حالت بالخصوص مسلم خواتین: تعلیم اور ترقیکے موضوع پر لکچر کا انعقاد

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -09 JULY      

پٹنہ: ۹؍جولائی۲۰۲۳ء : خدا بخش لائبریری میں۹؍جولائی ۲۰۲۳ء کوگیارہ بجے دن میں خواتین کی عمومی حالت بالخصوص مسلم خواتین: تعلیم اور ترقی کے موضوع پر لکچر کا انعقاد کیا گیا۔ محترمہ شاہانہ مناظر،اسکالر شعبہ انتھروپولوجییونیورسٹی آف وسکانسن۔میڈیسن، امریکہ نے اس موضوع پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ تعلیم انسان کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے جو ہمیں سب سے زیادہ پاور فل بناتا ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ ہمیں انسان بھی بننا ہے۔ اگر ہم نے انسانیت کو چھوڑ دیا تو تعلیم بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ نا خواندہ عورت کو دیکھ دل دُکھتا ہے۔ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جس میں ہر ایک تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکے۔ سماج کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ مرد اور عورت دونوں یکساں کام کرتے ہیں لیکن جب مزدوری کی بات آتی ہے تو عورتوں کو کم مزدوری دی جاتی ہے۔ اس ماحول کو ہمیں بدلنا ہوگا۔ حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود جو لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، ان کی ہمت بڑھانا چاہئے تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں اور اس کے لیے پہلا قدم گھر سے اٹھتا ہے یعنی بچیوں کو تعلیم و ہنر دلانے کے لئے بھائی، باپ اور شوہر سب کو چاہئے کہ لڑکیوں کو مکمل Supportکریں۔
محترمہ شاہانہ مناظر نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ریسرچ کے لئے خدا بخش لائبریری میں بڑا ذخیرہ موجود ہے جس کا استعمال کر اپنی تحقیق کو بامعنی بناسکتے ہیں۔ یہ لائبریری میرے دل کے بہت قریب ہے۔میرا یہ لکچر ہندوستان میں نوجوان خواتین کی حالت، تعلیم اورترقی کا ایک جائزہ پیش کرتا ہے، جس میں خاص توجہ مسلم خواتین پر ہے۔ یہ پسماندہ طبقوںمیں تعلیم کی اہمیت پر دوبارہ زور دیتا ہے۔ کمیونٹیز کو جابرانہ چکروں سے باہر نکلنے کے لیے بااختیار بنانے میں تعلیم کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیم خواتین کو علم، ہنر، خود اعتمادی اور معاشی مواقع فراہم کرتی ہے جو انہیں زیادہ خود مختار بننے میں مدد دے سکتی ہے، اور اس طرح سیاسی عمل میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین کے لیے اسکول کی تعلیم میں کمیونٹی سے چلنے والے اسکول بھی کافی مددگار ہوتے ہیں، وہ لوگ جنہیں ابھی تک ہندوستان میں سرکاری اسکول تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے تعلیم میں شمولیت اور مساوات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ہندوستان کے ‘نئے دور’ کے خوابوں سے ہم آہنگ رہنے کے لیے تعلیمی نتائج میں صنفی فرق کو ختم کرناہے۔ مزید برآں ملک میں خواتین کی بدلتی ہوئی Aspirationsپر بھی زور دیا۔انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح خواتین دیگر شعبوں کے علاوہ سیاست، تعلیم، کاروباری، فنون، سائنس اور کھیلوں میں سرگرمی سے حصہ لے رہی ہیں۔ آخر میں، بات ان خواتین کی خواہشات(Aspirations) پر مرکوز ہے جو بہار اور دہلی میں گھر میں رہ کر اپنی تعلیم کو بڑھانے میں سرگرم ہیں۔مختصراً یہ لکچر خواتین کی روزمرہ زندگی کے تناظر کو سمجھنے اور خواتین کی زندگی میں ان کی حصول تعلیم کی کوششوں کی کثیر جہتی نوعیت پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ عورتوں کی موجودہ حالت سے وہاں کے سماج کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہندستان میں سیاست میں عورتوں کی حصہ داری بہت کم ہے۔ اس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر دانشوروں اور طالب علموں نے سوالات بھی کئے جن کے تشفی بخش جواب دئے گئے۔
آخر میں یہ اعلان کیا گیا کہ : خدا بخش لائبریری میں مخطوطات اور نادر کتابوں کے تحفظ اور رکھ رکھاؤ پر سہ روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ یہ ورکشاپ 10جولائی سے 12جولائی تک جاری رہے گا۔ جس میں متعدد یونیورسیٹیوں اور لائبریریوں کے اسکالر شرکت کریں گے۔