!نہ گھر کے رہیں گے اور نہ گھاٹ کے

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -09 JULY      

کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج اور مہاراشٹر میں این سی پی میں ٹوٹ کے بعد سے بہار کی سیاست میں بڑی تیزی کے ساتھ تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔بہار کی سیاست سے وابستہ لوگوں کا ماننا ہے کہ بہار میں کون سی بحث کب زور پکڑے گی، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ وزیر تعلیم ڈاکٹر چندر شیکھر اور محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کے کے پاٹھک کے درمیان شروع وقار کی جنگ اب شایدعظیم اتحادکے تعلقات کو بھی متاثر کرنے لگا ہے۔ تاہم جے ڈی یو کی طرف سے اس سلسلے میں ایک وضاحت سامنے آئی ، جس کے مطابق دونوں پارٹیوں کے درمیان بریک ڈاؤن کا امکان یکسر مسترد ہو گیاہے۔
  دو روز قبل بھی بہار کے وزیر اعلی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے سرکردہ لیڈر نتیش کمار نے بھی عظیم اتحاد میں دراڑ کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ جے ڈی یو تقریباً ایک سال قبل بی جے پی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے الگ ہونے کے بعد عظیم اتحاد میں شامل ہوئی تھی۔اِدھربہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے خلاف ایک تازہ چارج شیٹ داخل کیے جانے کے بعد قیاس آرائیاں عروج پر ہیں، جو عظیم اتحاد میں سب سے بڑی پارٹی آر جے ڈی کے لیڈر ہیں،جن کا نام ہوٹل اراضی گھوٹالے میں سامنے آیا ہے ۔ انھیں کی وجہ سے نتیش کمار کو اس سے قبل استعفیٰ دینا پڑا تھا۔یہ سال 2017  کی بات ہے ۔ اس کے بعد سے  تعلقات ٹوٹ گئے تھے۔
اس کے علاوہ وزیر تعلیم پروفیسر چندر شیکھر کے محکمہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کے کے پاٹھک کے ساتھ جھگڑے میں ملوث رہے ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ چیف منسٹر کا اعتماد رکھتے ہیں۔ان دونوں کے درمیان چھڑی زبانی جنگ کے حوالے سے جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ عظیم اتحاد کے اندر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تمام افواہیں بی جے پی کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ جو ہمارے لیڈر کی طرف سے شروع کی گئی اپوزیشن اتحاد کی مہم سے حاصل ہونے والی رفتار سے حد درجہ مایوس ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور اس کے حال اور مستقبل کے اتحادیوں کے قائدین کےاِن دعوؤں کا مذاق بھی اڑایا کہ جے ڈی یو کے کئی ایم ایل ایز اور ایم پیز ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ اپنا رخ بدلنے کے لیے تیار ہیں۔
جے ڈی یو کے چیف ترجمان اور قانون ساز کونسل کے رکن نیرج کمار نے بھی الگ الگ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کئے ہیں۔انہوں نے اس افواہ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ناراض وزیر تعلیم تب سے اپنے دفتر میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں۔ جب سے محکمہ نے ایک خط جاری کیا تھا، جس میں ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کو احاطے میں داخل ہونے پر روک لگائی گئی تھی۔سابق وزیر اور جے ڈی یو قانون ساز کونسل کے رکن نے کہا کہ محکمہ تعلیم ان دنوں بہت مصروف محکمہ ہے۔ میں اسے اساتذہ کے حلقے کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے اچھی طرح جانتا ہوں۔ لیکن یہ وزراء کی کونسل سے متعلق معاملہ ہے اور میرے لیے اس پر زیادہ بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ نتیش کمار، جنہوں نے 2013 میں بی جے پی کے ساتھ دو دہائیوں پر محیط اتحاد توڑا تھا، چار سال قبل این ڈی اے میں واپس آئے ۔ پھر کس وجہ سے انھیں این ڈی اےسے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑی، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔اس کے باوجود میڈیا کے ایک حصے نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے’’ایک اور یو ٹرن‘‘ کی پیش گوئی کی ہے۔ اس پیش گوئی کے پیچھے کون سے عوامل کا رفرماہیں ، یہ بات بھی باشعور عوام کے علم میں ہے۔
اِدھر نتیش کمار کے اپنے آبائی ضلع نالندہ واقع راجگیر کے دورے نے بھی افواہوں کے بازار کو گرم کر دیا ہے۔چیف منسٹر کے دفتر کے مطابق، سی ایم راجگیر میںایک ماہ تک چلنے والے مذہبی میلے کی تیاریوں کی نگرانی کے لیے نالندہ میں ہیں۔ نیرج کمار نے بی جے پی کے اس مطالبہ پر ناراضگی ظاہر کی کہ نتیش کمار تیجسوی یادو کا استعفیٰ لے لیں یا انہیں برطرف کر دیں۔ جے ڈی یو کے چیف ترجمان نے نتیش کمار کو مشورہ دینے والوں سے سوال کیا ہے پہلے وہ یہ بتائیں کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے، جہاں بہت سے لیڈر، جن پر پارٹی پہلے بدعنوانی کا الزام لگا رہی تھی، اب اس کی کابینہ کے معزز ممبر ہیں۔
بہر حال بہار کی سیاست میں ابھی ’’تو ڈال ڈال تو ہم پات پات ‘‘ کا کھیل جاری ہے۔ بی جے پی کچھ ایسا ماحول بنانا چاہتی ہے کہ جنتا دل یونائیٹڈ اور آر جے ڈی سے الگ ہوجائے ، لیکن جنتا دل یونائیٹڈ کے ایم ایل ایز اور ایم پیز بی جے پی کی حکمت عملی سے واقف ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ اعلیٰ کمان کے مشورے سے الگ ہٹ کر کچھ کریں گے تو ان کا حال بھی مہاراشٹر کے سی ایم ایکناتھ شندےاور ان کی پارٹی کے لیڈروں جیسا ہو جا ئے گا ۔یعنی نہ گھر کے رہیں گے اور نہ گھاٹ کے۔
**********************